مشرق وسطیٰ

غلافِ کعبہ کی وائرل تصویر، حرمین شریفین کی وضاحت

انسائیڈ دی حرمین کے مطابق اس وائرل تصویر کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے حرم شریف سے وابستہ افراد اور ماہرین سے گفتگو کی گئی

غلافِ کعبہ کی مبینہ بے حرمتی کی افواہوں کے حوالے سے حرمین شریفین سے وضاحت آ گئی ہے

متعلقہ خبریں
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
سعودی عرب میں میڈیکل و انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر IIPA کا رہنمائی سیشن
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم
ڈاکٹر سید انور خورشید کو پریواسی بھارتیہ سمان 2025 ایوارڈ ملنےپر تہنیتی جلسہ
سعودی میں منشیات اسمگلنگ 6 کو سزائے موت

سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک تصویر بہت وائرل ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ غلافِ کعبہ کو زمین پر بچھایا گیا ہے، انسائیڈ دی حرمین کے مطابق اس وائرل تصویر کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے حرم شریف سے وابستہ افراد اور ماہرین سے گفتگو کی گئی۔

ماہرین نے اس تصویر کا بغور جائزہ لینے کے بعد مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تصویر اصلی کسوہ کی نہیں ہے، تصویر میں دکھائے گئے کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی اصلی کسوہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہے۔

اصل کسوہ کے بڑے پینلز کو عام طور پر 7 سے 8 افراد کے ساتھ حرکت دینا ممکن ہوتا ہے جب کہ وائرل تصویر میں کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی انتہائی کم ہے، جسے 3 یا 4 افراد حرکت دے سکتے ہیں۔

تصویر میں نظر آنے والے کپڑے کا وزن اور ساخت بھی اصلی غلافِ کعبہ یا کسوہ سے مختلف نظر آتی ہے۔ اصل کسوہ بھاری اور مضبوط ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر رکھے جانے پر اس میں سلوٹیں نہیں پڑ سکتیں، لیکن تصویر سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کہ یہ کوئی عام کپڑا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسوہ کے ڈیزائن اور بارڈر بھی اصلی کسوہ سے مطابقت نہیں رکھتے، اصلی کسوہ میں سیاہ رنگ کے فریم اور نقش واضح ہیں۔ خیال رہے کہ غلافِ کعبہ جسے ”کسوہ“ بھی کہا جاتا ہے، مسلمانوں کے ایمان اور تقدس سے جڑا ہوا ہے۔