منجیرا پراجیکٹ سے پانی کی سپلائی متاثر، سنگور پراجیکٹ ڈیڈ اسٹوریج کے قریب
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کے موسم میں بھی یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں حیدرآباد کے عوام کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے والے اہم ذرائع میں پانی کی کمی نے حکام کی تیاریوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں پینے کے پانی کی فراہمی کو لے کر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ منجیرا پراجیکٹ سے پانی کی سپلائی انتہائی کم ہوگئی ہے یا بعض اوقات بالکل نہیں ہو رہی، جبکہ سنگور پراجیکٹ بھی ڈیڈ اسٹوریج کی سطح کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کے موسم میں بھی یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں حیدرآباد کے عوام کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے والے اہم ذرائع میں پانی کی کمی نے حکام کی تیاریوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، منجیرا پراجیکٹ سے پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، سنگور پراجیکٹ میں پانی کی سطح ڈیڈ اسٹوریج کے قریب پہنچ رہی ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔
اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر کنّے پلی میں پانی اٹھانے والی موٹروں کو بروقت چالو کردیا جاتا تو ممکنہ طور پر پانی کی قلت کی یہ سنگین صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات کے ذریعے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکتا تھا۔
حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی ضروریات کے پیش نظر ماہرین نے آبی وسائل کے بہتر انتظام اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ شہریوں کو آنے والے دنوں میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔