تلنگانہ

مسائل کے مطالعہ کے لیے مزید 12 کمیٹیوں کی تشکیل، تلنگانہ جاگروتی کی مجموعی کمیٹیاں 44 ہوگئیں

تلنگانہ کے عوام کو درپیش مسائل کے جامع مطالعہ اور ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تیار کیے جانے والے بلیو پرنٹ کے تحت مزید 12 نئی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے۔

تلنگانہ کے عوام کو درپیش مسائل کے جامع مطالعہ اور ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تیار کیے جانے والے بلیو پرنٹ کے تحت مزید 12 نئی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد تلنگانہ جاگروتی کی مجموعی کمیٹیوں کی تعداد 44 ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے جمعرات کے روز نئی کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اہم شعبوں پر تفصیلی، زمینی اور عملی مطالعہ کے ذریعے قابلِ عمل تجاویز تیار کی جائیں گی۔

نئی 12 کمیٹیاں درج ذیل اہم شعبوں کا احاطہ کریں گی:

  • سابق فوجیوں کی فلاح
  • گیگ ورکرز کی بہبود
  • صحافیوں کی فلاح
  • معذور افراد کی فلاح و بااختیاری
  • بزنس اور ایم ایس ایم ای
  • کھیل
  • عوامی ٹرانسپورٹ
  • سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ
  • ماحولیات و جنگلات
  • اربن پلاننگ
  • ہاؤزنگ
  • دیوادیہ اور تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کی ترقی
  • توانائی اور گرین انرجی

ہر کمیٹی میں تین سے چار اراکین نامزد کیے گئے ہیں، جو اپنے اپنے شعبوں میں تفصیلی تحقیق اور مطالعہ کریں گے۔ یہ اراکین زمینی حقائق، عوامی ضروریات اور پالیسی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رپورٹس تیار کریں گے۔

تمام کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی جامع رپورٹس اسی ماہ کی 17 تاریخ تک اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کریں، تاکہ آئندہ حکمتِ عملی اور ترقیاتی خاکہ بروقت تیار کیا جا سکے۔

ریاستی مسائل کے حل اور ترقی کے لیے مزید 12 کمیٹیوں کی تشکیل تلنگانہ جاگروتی کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ عوامی فلاح، بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔