Uncategorized

26 رمضان المبارک تکمیلِ قرآن کی روح پرور ساعتیں اور حفاظِ کرام کی عظیم خدمات

دینی جامعات اور مدارس کا بے مثال کردار ہے، جہاں اساتذۂ کرام شب و روز محنت اور اخلاص کے ساتھ نئی نسل کو قرآنِ کریم کی تعلیم اور حفظ کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں

حیدرآباد : ماہِ رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں اور روحانیت کے ساتھ جب اختتامی مراحل کی طرف بڑھتا ہے تو ایمان افروز مناظر دلوں کو منور کر دیتے ہیں۔ انہی مبارک ساعتوں میں 26؍ رمضان المبارک کا دن اور 27ویں شب کی رات ایک خاص معنویت اختیار کر لیتی ہے، جب ملک و شہر کی بیشتر مساجد میں نمازِ تراویح کے دوران حفاظِ کرام قرآنِ مجید کی تکمیل کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یہ منظر دراصل نورِ قرآن سے معمور ایک روحانی جشن کا احساس دلاتا ہے، جہاں اللہ کے کلام کی صدائیں فضاؤں کو معطر کر دیتی ہیں اور اہلِ ایمان کے دل شکر و مسرت کے جذبات سے سرشار ہو جاتے ہیں۔

اس موقع پر خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حفاظِ کرام کی یہ عظیم خدمت امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کو سینوں میں محفوظ رکھنا اور رمضان المبارک میں اسے نمازِ تراویح کے ذریعے امت تک پہنچانا ایک مقدس فریضہ ہے، جو صدیوں سے اسلامی روایت کا روشن باب بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حفاظِ کرام کی اس کامیابی کے پیچھے ملک کی دینی جامعات اور مدارس کا بے مثال کردار ہے، جہاں اساتذۂ کرام شب و روز محنت اور اخلاص کے ساتھ نئی نسل کو قرآنِ کریم کی تعلیم اور حفظ کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں۔ یہ ادارے دراصل امت کے روحانی قلعے ہیں جو نہ صرف دینی علوم کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں اخلاقی استحکام، کردار سازی اور روحانی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں

۔مولانا نے مساجد کے ائمہ و ذمہ داران کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں وہ جس نظم و ضبط، اخلاص اور محنت کے ساتھ عبادت کا ماحول قائم رکھتے ہیں، وہ لائقِ ستائش ہے۔ سحر و افطار کے اجتماعی انتظامات، تراویح کی باقاعدہ ترتیب، نمازیوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا، دینی بیانات اور اصلاحی پروگراموں کا انعقاد — یہ تمام خدمات ایک عظیم دینی جذبے اور اجتماعی ذمہ داری کا مظہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک دراصل عبادت، صبر، ایثار، ہمدردی اور تقویٰ کی عملی تربیت کا مہینہ ہے، اور تکمیلِ قرآن کی یہ بابرکت راتیں اس تربیت کا حسین اختتام اور روحانی کامیابی کا اعلان ہیں۔ اس موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حفاظِ کرام، اساتذۂ مدارس اور مساجد کے منتظمین کی خدمات کی قدر کریں اور ان کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں تاکہ یہ مبارک سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہے۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کا نورانی ماحول بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں معتکفین ذکر و تلاوت، نوافل اور دعا و مناجات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ روح پرور مناظر دراصل اس بات کی علامت ہیں کہ امتِ مسلمہ آج بھی قرآن سے اپنی وابستگی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے خواتینِ اسلام کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں سحر و افطار کی تیاری، روزہ داروں کی خدمت اور دینی ماحول کی تشکیل میں ان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ اسی طرح نوجوان نسل کو بھی چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور دینی تعلیم و تربیت کے فروغ میں سرگرم کردار ادا کریں تاکہ معاشرہ ایک صالح اور باکردار نسل سے فیض یاب ہو سکے۔

آخر میں انہوں نے اہلِ ثروت اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ دینی مدارس اور مساجد کی سرپرستی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ یہی ادارے قرآن و سنت کی روشنی کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ملتِ اسلامیہ کو یہ پیغام دیا کہ رمضان المبارک کے فیوض و برکات کو اپنی عملی زندگی میں برقرار رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کی تعلیمات کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی مضمر ہے۔