مشرق وسطیٰ

بمباری، بھوک اور محاصرے کے باوجود غزہ میں ایمان زندہ: 500 بچوں، خواتین اور نوجوانوں نے حفظِ قرآن مکمل کیا

غزہ سے ایک دل کو چھو لینے والی اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کے دلوں کو متاثر کر دیا۔ شدید بمباری، بھوک، محاصرہ اور تباہی کے باوجود غزہ کے عوام کا ایمان کمزور نہیں پڑا۔

غزہ سے ایک دل کو چھو لینے والی اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کے دلوں کو متاثر کر دیا۔ شدید بمباری، بھوک، محاصرہ اور تباہی کے باوجود غزہ کے عوام کا ایمان کمزور نہیں پڑا۔ جنگ کے انہی کٹھن حالات کے درمیان غزہ شہر کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک خصوصی اور تاریخی تقریب منعقد کی گئی، جہاں 500 فلسطینی بچوں، نوجوانوں اور خواتین کو قرآنِ پاک حفظ کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔

متعلقہ خبریں
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کے خلاف قرارداد منظور
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری, عمارتیں ڈھیر
غزہ میں 80 فیصد علاقہ تباہ، کوئی جگہ محفوظ نہیں، حالات ناقابلِ بیان

یہ وہ حفاظ اور حافظات ہیں جنہوں نے اسرائیل کی جاری تباہ کن جنگ کے دوران، انتہائی سخت حالات میں قرآنِ پاک حفظ کیا۔ اس تقریب کا اہتمام مقامی دینی اور سماجی اداروں نے کیا، جس میں کیمپ کے مکین، علما، اساتذہ، والدین اور وہ خاندان شریک ہوئے جو جنگ کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

تقریب کے دوران قرآنِ پاک کی تلاوت، اجتماعی دعائیں اور مختصر خطابات ہوئے، جن میں صبر، ثابت قدمی اور ایمان کی طاقت کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ مسلسل فضائی حملوں، بجلی اور صاف پانی کی قلت، محفوظ پناہ گاہوں کی عدم دستیابی اور اپنوں کی شہادت کے باوجود ان بچوں اور خواتین نے قرآن سے اپنا تعلق نہیں توڑا۔

شرکا نے بتایا کہ کئی بچوں نے خیموں، تباہ شدہ گھروں اور عارضی پناہ گاہوں میں، کبھی موم بتی کی مدھم روشنی میں اور کبھی صرف یادداشت کے سہارے قرآنِ پاک حفظ کیا۔ جنگ کے دوران غزہ کی مساجد، مدارس اور تعلیمی ادارے بڑے پیمانے پر تباہ کر دیے گئے، لیکن رضاکارانہ کوششوں اور گھریلو تعاون کے ذریعے تعلیم اور حفظِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

علما نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ کے دوران قرآن حفظ کرنا صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ فلسطینی شناخت، ثقافت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ ایک مقرر نے کہا کہ “جب ہماری زندگی، ہمارا مستقبل اور ہماری شناخت مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہو، ایسے میں قرآن کو دلوں میں محفوظ رکھنا سب سے بڑی فتح ہے۔”

تقریب میں شریک والدین نے جذباتی انداز میں بتایا کہ ان کے بچوں نے بمباری اور خوف کے ماحول میں قرآن کو اپنا سہارا بنایا، اور یہی کلامِ پاک ان کے لیے حوصلہ، صبر اور طاقت کا ذریعہ بنا۔

آخر میں غزہ کے شہدا، زخمیوں اور بے گھر افراد کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی، محاصرے کے خاتمے اور امن کی بحالی کی اپیل کی گئی۔ منتظمین نے کہا کہ ایسے پروگرام آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے حوصلے بلند رہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ غزہ کی دینی اور روحانی زندگی آج بھی زندہ ہے۔

جب عمارتیں ملبے میں بدل دی جائیں، تب بھی اگر قرآن دلوں میں محفوظ ہو تو قومیں ختم نہیں ہوتیں—یہی غزہ کا پیغام ہے۔