آبنائے ہرمز میں 7 تیل ٹینکرس کو تباہ کردیا گیا،خطہ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے اندیشے
آبنائے ہرمز میں کل رات ایران کے حملوں یا بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد 7 تیل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔ تہران نے آج یہ بات بتائی۔ جنگ دوبارہ چھڑجانے کے اندیشوں کے دوران یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
دبئی (اے پی) آبنائے ہرمز میں کل رات ایران کے حملوں یا بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد 7 تیل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔ تہران نے آج یہ بات بتائی۔ جنگ دوبارہ چھڑجانے کے اندیشوں کے دوران یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
اسرائیل میں عنقریب انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جن میں وزیراعظم بنجامن نتن یاہو اقتدار سے محروم ہوسکتے ہیں جبکہ آئندہ ماہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات مقرر ہیں جہاں جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ پر رائے دہندوں میں برہمی پیدا ہوگئی ہے۔ اسی لئے یہ اندیشہ کیا جارہا ہے کہ ایران پر امریکہ۔اسرائیل کے حملے دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جہازوں پر تازہ حملوں کے بارے میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ کی ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں ایک بار پھر یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر امریکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رہنمائی کیلئے مدد کرتا رہے گا تو امریکی فوجی اڈوں پر دوبارہ حملے کئے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز پر ہنوز ایران کا کنٹرول ہے اور جنگ کے بارے میں امریکہ کے ساتھ بات چیت میں یہ چیز اس کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چہارشنبہ کے روز کہا تھا کہ تہران سفارتکاری کیلئے تیار ہے لیکن اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ 28 فروری کے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے اس نے کئی اہم فوجی سبق سیکھے ہیں۔ تہران نے حال ہی میں اشارہ دیاتھا کہ وہ کئی اہم تنصیبات جیسے زیرزمین کیبلس اور ڈاٹا سنٹرس کو نشانہ بناسکتا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں میں ہونے والی سب سے بڑی جنگ کیلئے امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی سب سے بڑی فورس میں شامل ہونے تیسرا بحری طیارہ بردار جہاز اور ہزاروں جوانوں کو اس علاقہ میں بھیج رہا ہے۔
اسی دوران مصالحت کار، واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایران ہنوز اپنی تازہ تجویز پیش کررہا ہے جس کے نتیجہ میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے اور اگر امریکہ کئی شرائط منظور کرلے تو اندرون ایک ہفتہ آبنائے ہرمز پوری طرح کھل سکتی ہے۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ جون میں واشنگٹن اور تہران اس شرط پر متفق نہیں ہوسکے تھے اور معاہدہ پر دستخط نہیں کئے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 7دنوں کی حالیہ تجویز کو مسترد کردیا ہے تاہم فریقین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے شرائط کو مسترد کئے جانے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔