تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں ایک جوڑے کی روایتی اور ماحول دوست شادی نے تمام کے دل جیت لئے
انہوں نے بتایا کہ وہ مشہور ماہرِ ماحولیات سریش گپتا کی تعلیمات سے متاثر تھیں اور اسی لیے انہوں نے نامیاتی شادی کا انتخاب کیا۔ دولہا کوٹلیا ریڈی نے بھی اس سوچ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیسٹینیشن ویڈنگ کے نام پر غیر ضروری اخراجات کرنے کے بجائے مقامی کسانوں اور دستکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ بہتر اقدام ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے اپنی شادی کو روایتی اور ماحول دوست بنا کر سماج کے لئے ایک نئی اور قابلِ تقلید مثال قائم کر دی ہے۔
ناگرجنا ساگر حلقہ کے تروملگری ساگر منڈل میں منعقدہ اس انوکھی شادی کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ منڈپ کی سجاوٹ سے لے کر مہمانوں کی ضیافت تک، کہیں بھی پلاسٹک یا کیمیکل کا نام و نشان تک نظر نہیں آیا۔
دلہن میگھنا، جو خود ایک انجینئر ہیں اور سیول سروسس کی تیاری کر رہی ہیں، نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی شادی جدید نمود و نمائش کے بجائے فطرت کے قریب اور صحت مند روایات کی آئینہ دار ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے جیون ساتھی کوٹلیا ریڈی اورارکان خاندان کو اعتماد میں لیا جس کے بعد شادی کے منڈپ کو مصنوعی اشیاء کے بجائے ناریل کے پتوں، کھجور کی شاخوں اور آم کے پتوں کے روایتی تورن سے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا۔
ماحول دوستی کا یہ جذبہ صرف سجاوٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ لباس اور کھانے پینے میں بھی نمایاں نظر آیا۔ دلہن، دولہا اور ان کے تمام ارکان خاندان نے ہاتھ سے بنے ہوئے روایتی ہینڈ لوم کپڑے زیب تن کئے جبکہ کھانے کی میز پر غیر ملکی پکوانوں یا فاسٹ فوڈ کے بجائے خالص نامیاتی طریقہ سے اگائی گئی فصلوں سے تیار کردہ سبزیوں کے پکوان پیش کئے گئے۔
مہمانوں کی تواضع باسمتی، میسور ملیکا اور نووارا جیسے روایتی چاولوں کے علاوہ تلنگانہ کے خالص ثقافتی کھانوں جیسے جوار کی روٹی، گٹکا، پچی پلسو، کٹھل کی بریانی اور روایتی مٹھائیوں سکنالو اور بھکشالو سے کی گئی۔
اس موقع پر دلہن میگھنا نے اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر شادیوں میں لاکھوں روپے صرف نمود و نمائش پر خرچ کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا پلاسٹک کا کچرا زمین اور بے زبان جانوروں کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مشہور ماہرِ ماحولیات سریش گپتا کی تعلیمات سے متاثر تھیں اور اسی لیے انہوں نے نامیاتی شادی کا انتخاب کیا۔ دولہا کوٹلیا ریڈی نے بھی اس سوچ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیسٹینیشن ویڈنگ کے نام پر غیر ضروری اخراجات کرنے کے بجائے مقامی کسانوں اور دستکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ بہتر اقدام ہے۔
آج کے دور میں جہاں پلاسٹک کی آلودگی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے نلگنڈہ کی اس جوڑی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سادگی اور اپنی روایات کی طرف واپسی کے ذریعہ نہ صرف ماحول کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ اپنی ثقافت کو بھی نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔