سوشیل میڈیا

چند سیکنڈ کی تاخیر اور بڑا سانحہ: بس ڈرائیور کی حاضر دماغی سے بچی کی جان بچ گئی

یہ ویڈیو دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ایک کمسن بچی ایک بڑے سڑک حادثے سے بال بال بچ گئی، اور اس کی واحد وجہ بس ڈرائیور کی بروقت حاضر دماغی تھی۔

حیدرآباد: یہ ویڈیو دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ایک کمسن بچی ایک بڑے سڑک حادثے سے بال بال بچ گئی، اور اس کی واحد وجہ بس ڈرائیور کی بروقت حاضر دماغی تھی۔ اگر چند سیکنڈ کا بھی فرق ہوتا تو یہ واقعہ ایک ناقابلِ تلافی سانحے میں بدل سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں
بجٹ میں تلنگانہ نظرانداز‘شہر میں زیر وفلکسیز آویزاں
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

یہ واقعہ نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ والدین کے لیے ایک سخت تنبیہ بھی ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف قسمت کے سہارے نہیں چھوڑی جا سکتی، بلکہ ہوشیاری ہی اصل تحفظ ہے۔

وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ماں سڑک کے دوسری جانب کھڑی ہے، جبکہ ننھی بچی سڑک کے ایک طرف اکیلی موجود ہے, اور وہ دوڑ کر سڑک پار کرتے ہوئے جیسے ہی اپنی ماں کی جانب جارہی ہوتی ہے کہ اسی دوران ایک بس تیزی سے سامنے سے آجاتی ہے۔ خوش قسمتی سے بس ڈرائیور صورتِ حال کو بھانپ لیتا ہے اور بس کو دائیں جانب موڑتے ہوئے فوراً بریک لگا دیتا ہے۔ اگر بس سیدھی آتی رہتی یا بچی ذرا سا بھی آگے بڑھ جاتی تو صرف بریک لگانے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ بچی کی جان محض ڈرائیور کے بروقت فیصلے کی وجہ سے بچ سکی۔

یہ ایک خوش قسمت بچاؤ تھا، لیکن ہر بچہ اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حادثات دوسری مہلت نہیں دیتے۔

اس واقعے سے کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ بچوں کو کبھی بھی سڑک کے قریب اکیلا نہ چھوڑیں۔ سڑک پار کرتے وقت یا سڑک پر چلتے ہوئے ہمیشہ بچے کا ہاتھ تھام کر رکھیں۔ موبائل فون، خریداری، بات چیت یا کسی بھی ایسی سرگرمی سے پرہیز کریں جو بچوں سے توجہ ہٹا دے۔

جب والدین اپنے معصوم بچوں کو سڑک پر لے کر نکلتے ہیں تو ان کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس واقعے میں واضح لاپرواہی نظر آتی ہے، جہاں بچی کو خطرے کے عالم میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ بچے رفتار، فاصلہ یا خطرے کا اندازہ نہیں لگا سکتے، یہ ذمہ داری مکمل طور پر والدین پر عائد ہوتی ہے۔

والدین کے لیے یہ ایک اہم حفاظتی یاد دہانی ہے کہ سڑکیں غیر متوقع ہوتی ہیں، گاڑیاں فوراً نہیں رک سکتیں اور ہر ڈرائیور ہر بار بروقت ردعمل نہیں دے پاتا۔ اس لیے ہوشیار والدین ہی بچوں کے لیے اصل حفاظتی حصار ہیں۔

اس بار بچی کی جان بچ گئی، لیکن اگلی بار قسمت ساتھ دے، یہ ضروری نہیں۔ والدین کو اس ایک سچ کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا.