سوشیل میڈیا

چند سیکنڈ کی تاخیر اور بڑا سانحہ: بس ڈرائیور کی حاضر دماغی سے بچی کی جان بچ گئی

یہ ویڈیو دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ایک کمسن بچی ایک بڑے سڑک حادثے سے بال بال بچ گئی، اور اس کی واحد وجہ بس ڈرائیور کی بروقت حاضر دماغی تھی۔

حیدرآباد: یہ ویڈیو دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ایک کمسن بچی ایک بڑے سڑک حادثے سے بال بال بچ گئی، اور اس کی واحد وجہ بس ڈرائیور کی بروقت حاضر دماغی تھی۔ اگر چند سیکنڈ کا بھی فرق ہوتا تو یہ واقعہ ایک ناقابلِ تلافی سانحے میں بدل سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں
بجٹ میں تلنگانہ نظرانداز‘شہر میں زیر وفلکسیز آویزاں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

یہ واقعہ نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ والدین کے لیے ایک سخت تنبیہ بھی ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف قسمت کے سہارے نہیں چھوڑی جا سکتی، بلکہ ہوشیاری ہی اصل تحفظ ہے۔

وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ماں سڑک کے دوسری جانب کھڑی ہے، جبکہ ننھی بچی سڑک کے ایک طرف اکیلی موجود ہے, اور وہ دوڑ کر سڑک پار کرتے ہوئے جیسے ہی اپنی ماں کی جانب جارہی ہوتی ہے کہ اسی دوران ایک بس تیزی سے سامنے سے آجاتی ہے۔ خوش قسمتی سے بس ڈرائیور صورتِ حال کو بھانپ لیتا ہے اور بس کو دائیں جانب موڑتے ہوئے فوراً بریک لگا دیتا ہے۔ اگر بس سیدھی آتی رہتی یا بچی ذرا سا بھی آگے بڑھ جاتی تو صرف بریک لگانے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ بچی کی جان محض ڈرائیور کے بروقت فیصلے کی وجہ سے بچ سکی۔

یہ ایک خوش قسمت بچاؤ تھا، لیکن ہر بچہ اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حادثات دوسری مہلت نہیں دیتے۔

اس واقعے سے کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ بچوں کو کبھی بھی سڑک کے قریب اکیلا نہ چھوڑیں۔ سڑک پار کرتے وقت یا سڑک پر چلتے ہوئے ہمیشہ بچے کا ہاتھ تھام کر رکھیں۔ موبائل فون، خریداری، بات چیت یا کسی بھی ایسی سرگرمی سے پرہیز کریں جو بچوں سے توجہ ہٹا دے۔

جب والدین اپنے معصوم بچوں کو سڑک پر لے کر نکلتے ہیں تو ان کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس واقعے میں واضح لاپرواہی نظر آتی ہے، جہاں بچی کو خطرے کے عالم میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ بچے رفتار، فاصلہ یا خطرے کا اندازہ نہیں لگا سکتے، یہ ذمہ داری مکمل طور پر والدین پر عائد ہوتی ہے۔

والدین کے لیے یہ ایک اہم حفاظتی یاد دہانی ہے کہ سڑکیں غیر متوقع ہوتی ہیں، گاڑیاں فوراً نہیں رک سکتیں اور ہر ڈرائیور ہر بار بروقت ردعمل نہیں دے پاتا۔ اس لیے ہوشیار والدین ہی بچوں کے لیے اصل حفاظتی حصار ہیں۔

اس بار بچی کی جان بچ گئی، لیکن اگلی بار قسمت ساتھ دے، یہ ضروری نہیں۔ والدین کو اس ایک سچ کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا.