حیدرآباد

عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب

وں بیت المال کی منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں ایسا توازن پیدا کیا کہ محتاج ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا۔

حیدرآباد : خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتلایا کہ تاریخِ انسانی کے افق پر بعض شخصیات ایسی طلوع ہوتی ہیں جن کی روشنی صدیوں کے اندھیروں کو چیرتی ہوئی آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد سے حج 2025 کا تیسرا قافلہ پروقار انداز میں روانہ
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

اقتدار کی مسندیں تو بہت سوں نے سنبھالیں، مگر عدل کی مسند پر وہی فائز ہوتے ہیں جن کے دل خوفِ خدا سے لبریز اور نگاہیں آخرت کی جواب دہی پر مرکوز ہوں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد اگر کسی عہد کو عدل و انصاف کی تازہ بہار کہا جائے تو وہ 99 تا 101 ہجری کا مختصر مگر بابرکت دور ہے، جب بنو اُمیہ کے تاجدار، زہد و تقویٰ کے پیکر، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

یہ محض اقتدار کی تبدیلی نہ تھی بلکہ طرزِ حکمرانی کی تطہیر تھی۔ بیت المال، جو بعض ادوار میں شاہی خزانے کی صورت اختیار کرچکا تھا، آپ کے ہاتھوں میں امانتِ الٰہی بن گیا۔ آپ نے سب سے پہلے اپنے اور اپنے خاندان کے ناجائز امتیازات ختم کیے۔ سرکاری عطیات واپس لیے، شاہانہ ساز و سامان فروخت کیا اور اعلان فرمایا کہ مسلمانوں کا مال مسلمانوں ہی کی فلاح پر صرف ہوگا۔ یوں بیت المال کی منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں ایسا توازن پیدا کیا کہ محتاج ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا۔

آپ کے عہد کا عدل محض نعروں تک محدود نہ تھا؛ گورنروں کا محاسبہ ہوتا، مظلوم کی فریاد براہِ راست سنی جاتی، اور قانون کی نظر میں امیر و غریب برابر تھے۔ آپ نے غیر مسلم رعایا کے ساتھ بھی انصاف کا وہ معیار قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ ٹیکسوں میں اعتدال، جبری وصولیوں کا خاتمہ، اور عوامی حقوق کی بحالی—یہ سب اصلاحات آپ کے عزمِ صادق کا آئینہ دار تھیں۔

علم و دین کی خدمت بھی آپ کی اصلاحات کا روشن باب ہے۔ احادیثِ نبویہ ﷺ کی تدوین کا باقاعدہ آغاز آپ ہی کے حکم سے ہوا، تاکہ سنتِ رسول محفوظ رہے اور آنے والی نسلیں ہدایت کے سرچشمے سے فیض یاب ہوں۔ گویا آپ کی خلافت نے نہ صرف معاشی و سماجی نظام کو سنوارا بلکہ فکری و روحانی بنیادوں کو بھی مضبوط کیا۔

17 فروری کا دن ہمیں اسی عدل آفریں کردار کی یاد دلاتا ہے—وہ یاد جو بتاتی ہے کہ اقتدار کا اصل حسن جاہ و جلال میں نہیں بلکہ امانت، دیانت اور خوفِ خدا میں ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مختصر دورِ خلافت تاریخ کا وہ سنہرا ورق ہے جو ہر عہد کے حکمرانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جب نیت خالص ہو اور مقصد رضائے الٰہی، تو چند برس بھی صدیوں پر بھاری ہوجاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عدل، امانت اور خدمتِ خلق کی وہی روح عطا فرمائے جس نے ایک مختصر عہد کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ آمین۔