تلنگانہ

دسہرہ کی خوشیوں کے درمیان ایک بڑا خطرہ، شہری ہوشیار!

دسہرہ تہوار کے موقع پر حیدرآباد کے شہری بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کئی خاندان پہلے ہی اپنے گاؤں روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر افراد سفر کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ ایسے میں گھروں کو کئی دنوں تک مقفل چھوڑ کر جانے والے افراد کے لیے چوری کی وارداتوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دسہرہ تہوار کے موقع پر حیدرآباد کے شہری بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کئی خاندان پہلے ہی اپنے گاؤں روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر افراد سفر کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ ایسے میں گھروں کو کئی دنوں تک مقفل چھوڑ کر جانے والے افراد کے لیے چوری کی وارداتوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ سائبرآباد اور ملکاجگیری پولیس کمشنریٹس کے حدود میں پیش آنے والی مسلسل چوری کی وارداتوں کے پیش نظر تہوار کی تعطیلات کے دوران پولیس کے لیے گھروں کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر شہری تہوار کی خوشیوں میں مصروف ہوکر اپنے گھروں کی حفاظت کو نظرانداز کریں تو واپسی پر انہیں قیمتی سامان سے محروم ہونے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

شہر کے اپارٹمنٹس، کالونیوں، ولاز اور مضافاتی علاقوں میں واقع مکانات چوروں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ چور اکثر اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ کون سا گھر مقفل ہے، وہاں کئی دنوں سے کوئی آیا ہے یا نہیں اور آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت کیسی ہے۔ وہ مناسب موقع کا انتظار کرکے چوری کی وارداتوں کو انجام دے سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں نارسنگی میں چڈی گینگ کی واردات، حیات نگر میں زیورات کی دکان میں چوری اور گھروں میں پیش آنے والی متعدد چوری کی وارداتیں اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

دسہرہ کے دوران جب شہر کے کئی خاندان ایک ساتھ اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہوتے ہیں تو بعض رہائشی علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب پولیس تہوار کے انتظامات، بھیڑ والے مقامات پر بندوبست اور ٹریفک کنٹرول میں مصروف رہتی ہے۔ ایسے حالات میں رہائشی علاقوں پر مسلسل نظر رکھنا پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

تاہم پولیس کی چوکسی کے ساتھ عوام کا تعاون بھی ضروری ہے۔ کالونیوں کی ویلفیئر اسوسی ایشنز، اپارٹمنٹ اسوسی ایشنز اور سکیورٹی عملہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں تو مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

گھروں کو مقفل کرکے روانہ ہونے سے پہلے شہریوں کو چاہیے کہ وہ مرکزی دروازوں کے ساتھ پچھلے دروازوں، بالکونی کے دروازوں اور کھڑکیوں کو اچھی طرح بند کرکے ان پر تالے لگائیں۔ گھر کی حفاظت کے لیے دستیاب اضافی انتظامات کو بھی یقینی بنائیں۔ نقد رقم، سونے کے زیورات اور اہم دستاویزات کو گھر میں غیر محفوظ چھوڑنے کے بجائے بینک لاکر یا کسی محفوظ مقام پر رکھنا بہتر ہے۔

سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کسی قابل اعتماد پڑوسی یا رشتہ دار کو اپنے سفر کی اطلاع دیں، تاکہ وہ وقتاً فوقتاً گھر کے آس پاس نظر رکھ سکے۔ اگر گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے، اسمارٹ ڈور لاک یا الارم کا نظام موجود ہے تو اس کی کارکردگی کی جانچ کرلیں اور یہ بھی یقینی بنائیں کہ موبائل فون پر حفاظتی الرٹس موصول ہورہے ہیں۔

شہریوں کو سوشل میڈیا پر اپنے سفر کی تفصیلات، روانگی کی تاریخ یا گھر خالی ہونے کی اطلاع دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان معلومات سے چوروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح گھر کی چابیاں نامعلوم افراد کے حوالے نہ کریں اور سکیورٹی عملے یا گھر آنے والے ملازمین کو بھی ضرورت سے زیادہ ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔

گھر سے نکلتے وقت غیر ضروری برقی آلات بند کردیں، گیس کی سپلائی منقطع کریں اور بجلی و گیس کے حفاظتی انتظامات کی جانچ کرلیں۔ تاہم، سی سی ٹی وی کیمروں اور الارم جیسے حفاظتی نظاموں کی بجلی بند نہ کریں، تاکہ گھر کی نگرانی جاری رہے۔

اگر کسی کالونی میں مشتبہ افراد بار بار گھروں کے آس پاس گھومتے نظر آئیں، دروازوں یا کھڑکیوں کا جائزہ لیتے دکھائی دیں یا کوئی غیر معمولی سرگرمی سامنے آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔ ہنگامی صورت حال میں 100 یا 112 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ مشتبہ افراد کا خود پیچھا کرنے یا ان کا سامنا کرنے کے بجائے محفوظ مقام پر رہتے ہوئے پولیس کو اطلاع دینا زیادہ مناسب ہے۔

پولیس کی چوکسی کے ساتھ شہریوں کی معمولی احتیاط بھی چوری کی وارداتوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس لیے دسہرہ کی خوشیاں منانے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہونے سے پہلے گھروں کی حفاظت کے تمام ضروری انتظامات مکمل کرنا نہ بھولیں۔