حیدرآباد کی 125 سے زائد قدیم باولیوں کو نئی زندگی دینے ایک سالہ مہم کا آغاز
حیدرآباد میں پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر شہر کی قدیم باولیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کی اہمیت سے عوام کو واقف کروانے کے لیے ایک سالہ مہم شروع کی جا رہی ہے۔
حیدرآباد میں پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر شہر کی قدیم باولیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کی اہمیت سے عوام کو واقف کروانے کے لیے ایک سالہ مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد ان روایتی آبی نظاموں کے تحفظ کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور شہری علاقوں میں سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔
تلنگانہ کے آبی ورثے کے تحفظ کے لیے 2020 سے کام کرنے والا ادارہ اکارما 13 نومبر کو ’’می باوی‘‘ یعنی ’’آپ کی باولی‘‘ کے نام سے ایک خصوصی مہم اور سفری نمائش کا آغاز کرے گا۔ یہ مہم نومبر 2027 تک جاری رہے گی اور اس دوران شہر کے مختلف عوامی مقامات پر قدیم باولیوں اور روایتی آبی نظاموں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اس نمائش کے لیے کے بی آر پارک، گولکنڈہ قلعہ، ٹینک بنڈ، چارمینار اور میٹرو کے منتخب اسٹیشنوں جیسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہاں تصاویر، معلوماتی پینلس، باولیوں کے نمونے اور جدید انداز کی تعاملی تنصیبات کے ذریعے عوام کو ان تاریخی آبی ڈھانچوں کی اہمیت سے واقف کروایا جائے گا۔ مہم کے منتظمین کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ماضی میں پانی جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی یہ باولیاں آج بھی شہر کے آبی مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
ادارے کے مطابق حیدرآباد کی کئی تاریخی باولیاں غفلت، کچرا ڈالنے، تجاوزات اور عمارتوں کے خستہ حال ہونے جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تاریخی مقامات کا تحفظ نہ صرف شہر کے تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ روایتی طریقوں سے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام کو بھی بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اکارما کی جانب سے تیار کردہ مہم کی تجویز میں حیدرآباد کی آؤٹر رنگ روڈ کی حدود میں 125 سے زیادہ باولیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق ان باولیوں میں پانی محفوظ رکھنے کی مجموعی گنجائش تقریباً 2 ارب لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2047 تک شہر کی روزانہ پانی کی متوقع طلب 4 ارب لیٹر ہونے کا اندازہ ہے۔ تاہم، یہ ان باولیوں کی ممکنہ گنجائش کا تخمینہ ہے، ان میں اس وقت دستیاب پانی کی مقدار نہیں۔
اس مہم کے تحت عوامی شعور بیدار کرنے، باولیوں کے تحفظ کے لیے پالیسی اقدامات کو فروغ دینے اور تاریخی آبی ڈھانچوں کی عملی طور پر مرمت و بحالی پر توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں طلبہ کے لیے ورکشاپس، ماہرین کے ساتھ مباحثے اور سرکاری عہدیداروں، مقامی برادریوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
ادارہ اکارما باولیوں کے تحفظ کے لیے حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹس پروٹیکشن ایجنسی، حائیڈرا سمیت مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔ اس تعاون کا مقصد ان تاریخی آبی ڈھانچوں کے تحفظ کے لیے پالیسی فریم ورک اور مناسب طریقہ کار تیار کرنا ہے۔
اکارما کی جانب سے بپو گھاٹ کی باولی کے تحفظ کا کام کیا جا چکا ہے، جبکہ حیات نگر اور پٹن چیرو کی باولیوں کی بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔ ادارے نے آئندہ چند برسوں میں ترجیحی بنیادوں پر بحالی کے لیے تقریباً 15 سے 20 باولیوں کو بھی منتخب کیا ہے۔
اس کام میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جائے گی کہ باولیوں کی بحالی سے اطراف میں رہنے والی آبادیوں کو بھی فائدہ پہنچے اور حیدرآباد کا روایتی آبی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جاسکے۔