سڑک حادثات روکنے کیلئے تلنگانہ حکومت کا نیا قدم
تلنگانہ حکومت نے ریاست میں سڑک حادثات پر قابو پانے اور سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے روڈ سیفٹی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
تلنگانہ حکومت نے ریاست میں سڑک حادثات پر قابو پانے اور سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے روڈ سیفٹی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ریاستی اور ضلعی سطح پر روڈ سیفٹی فنڈز کے حسابات کا کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی کے ذریعے آڈٹ لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ فنڈز کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات آن لائن درج کرنے اور ان کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں حکومت نے جی او نمبر 48 کے تحت نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق تمام اضلاع کے کلکٹرس کو روڈ سیفٹی کمیٹیوں کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہر ماہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم ہو اور سڑک حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
نئی ہدایات کے تحت روڈ سیفٹی فنڈز کی آمدنی اور اخراجات کا حساب رکھنے کے لیے آن لائن نظام تمام اضلاع تک توسیع دیا جائے گا۔ ریاستی اور ضلعی سطح پر ان فنڈز کے حسابات کا سی اے جی کے ذریعے آڈٹ بھی لازمی ہوگا۔ فنڈز سے متعلق تفصیلات مرکزی وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے پورٹل پر بھی اپ لوڈ کی جائیں گی، تاکہ سپریم کورٹ کی روڈ سیفٹی کمیٹی ان معلومات تک رسائی حاصل کرسکے۔
تلنگانہ موٹر وہیکلس ٹیکسیشن ترمیمی قانون 2026 کے تحت وصول کی جانے والی روڈ سیفٹی سیس کی رقم تلنگانہ روڈ سیفٹی نان لیپس ایبل فنڈ میں جمع کی جائے گی۔ اس فنڈ کے انتظام اور نگرانی کی ذمہ داری قانونی طور پر قائم ریاستی روڈ سیفٹی کونسل کو سونپی گئی ہے۔ اس کونسل کے صدر وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ نائب صدر کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و بہبود پسماندہ طبقات پونم پربھاکر نے کہا کہ نئی رہنما ہدایات مرکزی وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی ہدایات کے مطابق جاری کی گئی ہیں۔ ان کا مقصد روڈ سیفٹی کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانا، فنڈز کے استعمال میں جوابدہی کو یقینی بنانا اور حادثات کی تعداد میں کمی لانا ہے۔
حکومت نے ضلعی سطح پر بھی مختلف عہدیداروں اور محکموں کی ذمہ داریاں واضح کردی ہیں۔ تمام ضلع کلکٹرس کو روڈ سیفٹی کوآرڈینیٹرس مقرر کرنے اور اپنے اپنے اضلاع کے لیے سڑکوں کی حفاظت سے متعلق منصوبے تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس، محکمہ صحت، محکمہ سڑک و عمارت، محکمہ تعلیم اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سمیت متعلقہ محکموں کو بھی نوڈل عہدیدار نامزد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ ٹریفک مینجمنٹ اینڈ روڈ سیفٹی سے متعلق اداروں، محکمہ پنچایت راج، قومی شاہراہ اتھارٹی، 108 ایمرجنسی خدمات، محکمہ آبکاری اور بلدی نظم و نسق سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو ہر تین ماہ میں کیے گئے اقدامات کی رپورٹ روڈ سیفٹی کی نوڈل ایجنسی کو پیش کرنا ہوگی۔
بہتر تال میل کو یقینی بنانے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، روڈ سیفٹی کے دفتر کو بھی ریاستی روڈ سیفٹی کونسل کے نظام میں شامل کیا جائے گا، تاکہ مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو اور سڑک حادثات کی روک تھام کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جاسکے۔
وزیر پونم پربھاکر نے اس بات پر زور دیا کہ روڈ سیفٹی فنڈز کا مؤثر استعمال، محکموں کے درمیان بہتر تال میل اور مسلسل نگرانی ہی تلنگانہ میں سڑک حادثات کو کم کرنے اور عوام کے لیے سفر کو زیادہ محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔