حیدرآباد

لڑکیوں کی فرضی سوشل میڈیا آئی ڈی بنا کر تقریباً ایک ہزار افراد کو دھوکہ، 26 لاکھ روپے بٹورنے والا نوجوان گرفتار

سائبر آباد پولیس نے لڑکیوں کے نام اور تصاویر استعمال کرتے ہوئے فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے، تقریباً ایک ہزار افراد کو دھوکہ دینے اور چار سال کے دوران مبینہ طور پر 26.16 لاکھ روپے بٹورنے کے الزام میں 23 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

حیدرآباد: سائبر آباد پولیس نے لڑکیوں کے نام اور تصاویر استعمال کرتے ہوئے فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے، تقریباً ایک ہزار افراد کو دھوکہ دینے اور چار سال کے دوران مبینہ طور پر 26.16 لاکھ روپے بٹورنے کے الزام میں 23 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

ملزم کی شناخت کے پون کمار کے طور پر کی گئی ہے، جو ضلع کھمم کے ٹیکولاپلی منڈل کا رہنے والا ہے اور فی الحال حیدرآباد کے علاقہ کوکٹ پلی میں مقیم ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ مختلف کمپنیوں میں کام کرنے کے بعد ملازمت چھوڑ چکا تھا۔

پولیس کے مطابق، پون کمار نے انسٹاگرام پر 13 اور فیس بک پر 14 فرضی اکاؤنٹس بنائے تھے۔ ان اکاؤنٹس پر لڑکیوں کے نام اور تصاویر استعمال کرکے وہ نوجوانوں اور دیگر افراد سے لڑکی بن کر بات کرتا، ان کا اعتماد حاصل کرتا اور ان کی ذاتی معلومات اور قابل اعتراض تصاویر حاصل کرلیتا تھا۔

بعد ازاں، ملزم مبینہ طور پر لڑکی کی بہن بن کر متاثرین کو دھمکاتا اور ان کی نجی تصاویر کے ذریعہ رقم وصول کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، وہ سرمایہ کاری کے نام پر بھی مختلف افراد سے پیسے بٹورنے میں ملوث تھا۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو پتہ چلا کہ متاثرین میں پولیس اہلکار، ڈاکٹر، تاجر، سافٹ ویئر انجینئرز اور گیگ ورکرز شامل ہیں۔ متاثرین میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل بتائے گئے ہیں، جن میں انسپکٹرس اور ایڈیشنل ڈی سی پیز شامل ہیں۔

متاثرین کا تعلق آندھرا پردیش، کیرالا، تمل ناڈو، کرناٹک، تلنگانہ اور پنجاب سمیت مختلف ریاستوں سے ہے، جبکہ بعض متاثرین دوسرے ممالک سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس کے مطابق، ملزم نے فرضی اکاؤنٹس بنانے کے لیے کولکتہ کی ایک خاتون یوٹیوب انفلوئنسر کی تصویر بھی استعمال کی تھی۔

متاثرین کی شکایات کے بعد سائبر آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ اس کے قبضے سے تین موبائل فون، سم کارڈز، ایک لیپ ٹاپ اور ایک پین ڈرائیو ضبط کی گئی ہے۔

پولیس نے سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آن لائن اجنبی افراد سے رابطے کے دوران احتیاط برتیں اور اپنی ذاتی معلومات یا نجی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔

پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔