سیول سپلائیز محکمہ میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی، افسر کی جائیدادوں نے کھڑے کیے کئی سوالات
تلنگانہ کے محکمہ سیول سپلائیز میں مبینہ بدعنوانی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محبوب آباد ضلع کے منیجر واسم شیٹی نرسمہا راؤ کے مکانات پر اینٹی کرپشن بیورو یعنی اے سی بی کے چھاپوں کے دوران کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔
تلنگانہ کے محکمہ سیول سپلائیز میں مبینہ بدعنوانی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محبوب آباد ضلع کے منیجر واسم شیٹی نرسمہا راؤ کے مکانات پر اینٹی کرپشن بیورو یعنی اے سی بی کے چھاپوں کے دوران کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان جائیدادوں کی سرکاری طور پر بتائی گئی مالیت تقریباً 9 کروڑ 41 لاکھ روپے ہے، جبکہ ان کی مارکیٹ ویلیو 100 کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کا اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیول سپلائیز کے ایک ضلعی افسر کے خلاف اتنی بڑی مالیت کی مبینہ غیر قانونی جائیدادوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ میں بدعنوانی کو لے کر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس معاملے کے بعد یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ صرف محبوب آباد ہی نہیں، بلکہ ریاست کے دیگر اضلاع اور حیدرآباد میں واقع محکمہ کے مرکزی دفتر میں تعینات اہم عہدیداروں کے خلاف بھی اسی طرح کی تحقیقات کی جائیں۔
میڈیا رپورٹس میں محکمہ کے بعض دیگر افسران کے خلاف بھی کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی کمائی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، محکمہ سیول سپلائیز میں ضلع منیجرز اور ضلع سیول سپلائیز افسران کے عہدوں کو کافی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان عہدوں پر فائز افسران کو دھان کی خریداری، ملوں کو دھان مختص کرنے، کسٹم ملنگ رائس یعنی سی ایم آر کی وصولی، راشن کے چاول کی نقل و حمل، گوداموں کے انتظام اور گنی بیگس کی خریداری جیسے اہم کاموں کی نگرانی کرنی ہوتی ہے۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض افسران اور رائس ملرس کے درمیان ملی بھگت کے ذریعے بدعنوانی کی جاتی ہے۔ خاص طور پر ڈیفالٹر ملوں کو قواعد کے خلاف دھان مختص کرنے، سی ایم آر چاول کی وصولی اور سرکاری ٹینڈرس میں کمیشن وصول کرنے جیسے معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گنی بیگس کی خریداری اور دھان و راشن کے چاول کی نقل و حمل سے متعلق ٹینڈرس میں تقریباً تین فیصد کمیشن وصول کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پرانے گنی بیگس کی خریداری پر ہر سال تقریباً 600 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس حساب سے کمیشن کی رقم 18 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات اور اندازوں پر مبنی ہیں، انہیں ثابت شدہ بدعنوانی نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس کے علاوہ، رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رائس ملرس کے پاس تقریباً 6,630 کروڑ روپے مالیت کا دھان موجود ہے۔ اس بڑی مقدار میں دھان جمع رہنے کے معاملے پر بھی محکمہ کے افسران کی ذمہ داری اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دوسری جانب، تلنگانہ سیول سپلائیز کارپوریشن کی مالی حالت بھی تشویش کا باعث بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کارپوریشن پر قرض کا بوجھ بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، رواں خریف سیزن میں دھان کی خریداری کے لیے مزید 17 ہزار 300 کروڑ روپے قرض حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک طرف سرکاری کارپوریشن قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، تو دوسری طرف بعض افسران کے خلاف کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی جائیدادیں جمع کرنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے محکمہ کے مالی انتظامات، نگرانی اور احتساب کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بعض معاملات میں سیول سپلائیز کے افسران کے ساتھ ریونیو محکمہ کے کچھ عہدیداروں کی ملی بھگت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اے سی بی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس پورے نظام کی تفصیلی جانچ کرے اور اگر بدعنوانی کے ثبوت ملیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ محبوب آباد کے ضلع منیجر کے خلاف اے سی بی کی کارروائی نے ریاست میں سیول سپلائیز محکمہ کے کام کاج اور مبینہ بدعنوانی کے معاملات کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اے سی بی کی تحقیقات میں مزید کیا انکشافات سامنے آتے ہیں اور کیا محکمہ کے دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی ہے۔