ایم وی ایس آر کالج کے ڈانڈیا میں مسلم باؤنسر کو نشانہ بنانے پر تنازعہ، ویڈیو وائرل
حیدرآباد کے نادَرگُل میں واقع ایم وی ایس آر انجینئرنگ کالج میں منعقدہ ڈانڈیا پروگرام سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں چند نوجوان ایک مسلم باؤنسر سے سوال کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یہ ہندوؤں کا پروگرام ہے، تو تم یہاں کیوں آئے ہو؟
حیدرآباد کے نادَرگُل میں واقع ایم وی ایس آر انجینئرنگ کالج میں منعقدہ ڈانڈیا پروگرام سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں چند نوجوان ایک مسلم باؤنسر سے سوال کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یہ ہندوؤں کا پروگرام ہے، تو تم یہاں کیوں آئے ہو؟
اطلاعات کے مطابق، کالج میں منعقدہ ڈانڈیا تقریب کے دوران منتظمین نے سیکیورٹی کے لیے باؤنسرز تعینات کیے تھے، جن میں فرید نامی ایک مسلم باؤنسر بھی شامل تھا۔ اسی دوران چند نوجوانوں نے اسے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہوئے سوالات کیے اور سخت لہجے میں بات کی۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ مہم چل رہی ہے کہ ہندوؤں کے تہواروں میں مسلم باؤنسرز کو نہیں آنا چاہیے، پھر وہ اس پروگرام میں کیوں آیا ہے؟
باؤنسر کی جانب سے یہ بتائے جانے کے باوجود کہ اسے پروگرام کے منتظمین نے ڈیوٹی کے لیے بلایا ہے، نوجوان اس کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ اس واقعے کی ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر شیئر بھی کی گئی، جس کے بعد یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مذہبی تقریبات میں شرکت، اپنے مذہب کی روایات پر عمل اور دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام، ان سب معاملات کو سمجھ داری اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص کسی پروگرام میں سیکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے منتظمین کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے، تو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر اسے روکنا، اس کی تذلیل کرنا یا اسے ہراساں کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر منتظمین کو کسی معاملے پر اعتراض ہو تو وہ خود اس سے بات کر سکتے ہیں، لیکن کسی کو مذہب کے نام پر نشانہ بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر مذہبی تقریبات میں شرکت کے حوالے سے اصولوں اور حدود کی بات کی جا رہی ہے، تو کیا ان اصولوں کا اطلاق سب پر یکساں طور پر ہونا چاہیے؟ اگر کوئی یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ مسلم مردوں کو ہندوؤں کے مذہبی پروگراموں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ مسلم لڑکیوں کے ڈانڈیا پروگراموں میں شرکت کے معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ کیا مذہبی اصولوں اور اعتراضات کا معیار صرف مسلم نوجوانوں کے معاملے میں الگ ہو جاتا ہے؟
تاہم، کسی بھی مذہبی یا سماجی معاملے میں اختلاف کا اظہار قانون اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔ کسی کو گھیرنا، اس کی ویڈیو بنا کر اسے نشانہ بنانا یا ہراساں کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔ اگر کسی تقریب میں کسی شخص کی موجودگی پر اعتراض ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ منتظمین کو کرنا چاہیے، نہ کہ چند نوجوان خود قانون ہاتھ میں لیں۔
دوسری جانب، اسی ایم وی ایس آر انجینئرنگ کالج میں 17 اکتوبر کو منعقدہ ڈانڈیا تقریب کے دوران ایک عارضی لوہے کا ڈھانچہ گرنے سے ایک طالبہ کی موت ہو گئی تھی، جبکہ 22 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران منتظمین کی مبینہ لاپروائی کو حادثے کی وجہ قرار دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ڈھانچے کی تعمیر میں چار ستونوں کے بجائے صرف دو ستون استعمال کیے گئے تھے۔
پولیس نے اس معاملے میں سات افراد کو ملزم قرار دیا ہے، جن میں سے تین کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر چار ملزمین کی تلاش جاری ہے۔
اب اس پورے معاملے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مذہب کی بنیاد پر باؤنسر کو نشانہ بنانے کے واقعے پر متعلقہ حکام کیا کارروائی کرتے ہیں اور کالج انتظامیہ اس معاملے میں کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی تقریبات کے انعقاد میں حفاظتی انتظامات، باہمی احترام اور قانون کی پابندی کو یکساں اہمیت دی جائے۔