بین الاقوامی

امریکہ نے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کردیا، ایران، واشنگٹن سے بات چیت کے حق میں نہیں

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کردیا جبکہ امریکی فوج کم ازکم 1000 سپاہی مشرق ِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری میں ہے جہاں پہلے سے 50 ہزار فوجی تعینات ہیں۔

دُبئی (اے پی) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کردیا جبکہ امریکی فوج کم ازکم 1000 سپاہی مشرق ِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری میں ہے جہاں پہلے سے 50 ہزار فوجی تعینات ہیں۔

ایران کو جنگ بندی منصو بہ پاکستان کے ثالثوں نے سونپا جنہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کرانے کی پیشکش کی ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے سب سے پہلے خبردی کہ منصوبہ ایرانیوں کو پہنچادیا گیا ہے۔

پنٹگان بھی 2 میرین یونٹس تعینات کرنے کی تیاری میں ہے جس کے ساتھ ہی تقریباً 5 ہزار میرینس اور ہزاروں سیلرس کا خطہ میں اضافہ ہوجائے گا۔ اسرائیلی عہدیداروں کو جنگ بندی منصوبہ پر حیرت ہوئی کیونکہ وہ وکالت کررہے ہیں کہ صدر ٹرمپ‘ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھیں۔ ٹرمپ نے قبل ازیں کہا تھا کہ امریکہ‘ ایران کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ جنگ ختم ہوجائے۔ اسی دوران اسلامی جمہوریہ پر فضائی حملے ہوئے جبکہ ایرانی مزائلوں اور ڈرونس نے اسرائیل اور خطہ کے دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔

ایران نے کہا ہے کہ کوئی بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ امریکی صدر اپنے آپ سے بات چیت کررہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ایران کی حکومت میں بات چیت کا کون مجاز ہے یا کون اس پر آمادہ ہوگا۔ اسرائیل نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ایران کے رہنماؤں کو ہلاک کرتا رہے گا۔ ایران کو اب امریکہ پر بھروسہ نہیں رہا۔ 82 ویں ایربارن ڈیویژن کے کم ازکم ایک ہزار سپاہی آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ بھیجے جائیں گے۔

82 ایربارن کو امریکہ کی ایمرجنسی ریسپانس فورس سمجھا جاتا ہے اور اسے شارٹ نوٹس پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ امریکی عہدیداروں نے کہا تھا کہ بحریہ کے کئی جہازوں میں ہزاروں میرین مشرقِ وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں۔ خطہ میں میرینس کی تعیناتی سے قیاس آرائی بڑھ گئی ہے کہ امریکہ‘ ایرانی جزیرہ خارگ پر قبضہ کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس جزیرہ کی ایران کے تیل نیٹ ورک میں بڑی اہمیت ہے۔

ایک ہفتہ قبل امریکہ نے اس جزیرہ پر بمباری کی تھی۔ اسلام آباد میں عہدیداروں نے چہارشنبہ کے دن بتایا کہ ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ مل چکا ہے۔ پاکستانی ثالثوں نے اسے اس کے حوالہ کیا۔ یہ تجویز ایسے وقت بھیجی گئی جب واشنگٹن‘ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی تعینات کرنے لگا ہے۔ ایرانی فوج نے سفارتی کوششوں کو نظرانداز کردیا اور چہارشنبہ کے دن اسرائیل اور خطہ ئ خلیج ِ فارس پر مزید حملے کئے۔

اس کے ایک حملہ میں کویت انٹرنیشنل ایرپورٹ میں مہیب آگ بھڑک اٹھی۔ پاکستانی عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 15 نکاتی منصوبہ میں تحدیدات اٹھالینے‘ سیویلین نیوکلیر تعاون‘ آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہازوں کو گزرنے دینے کا ذکر ہے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے آج صبح ایرانی حکومت کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے بڑے پیمانہ پر نئے حملے شروع کردیئے ہیں۔ اسرائیل میں آج صبح مزائل الرٹ سائرن بج اٹھے۔

یہ سائرن 28 فروری کے بعد سے روزانہ بج رہے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے علاوہ اپنے خلیجی عرب ہمسایوں پر بھی دباؤ برقرار رکھا ہے۔ سعودی عرب کی وزارت ِ دفاع نے کہا کہ اس نے مملکت کے تیل کی دولت سے مالامال منطقہ شرقیہ کی فضاؤں میں کم ازکم 8 ایرانی ڈرونس کو مارگرایا۔ بحرین میں مزائل الرٹ سائرن کی آوازیں سنائی دیں۔ کویت نے کہا کہ اس نے کئی ڈرونس کو مارگرایا لیکن ایک ڈرون کویت انٹرنیشنل ایرپورٹ کی فیول ٹینکس سے ٹکرایا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ایران نے چند جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ کے دام 120 امریکی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن آج صبح یہ 100 امریکی ڈالر کے آس پاس رہے کیونکہ بات چیت کے ذریعہ ممکنہ جنگ بندی کی امید بڑھ گئی ہے۔ 15 نکاتی منصوبہ اب ایرانیوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ثالثی کی کوششوں سے جڑے ایک مصری عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ یہ واضح نہیں کہ حکومت ِ ایران میں بات چیت کی اتھاریٹی کسے حاصل ہے۔

ثالث زور دے رہے ہیں کہ ایرانیوں اور امریکیوں کے بیچ بالمشافہ بات چیت ہو۔ شاید جمعہ کو پاکستان میں یہ بات چیت ہوجائے لیکن اس کے لئے امریکیوں کو ابھی سے سفر شروع کردینا ہوگا۔ کل رات سعودی عرب کے طاقتور کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے فون پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کی اور جنگ بندی بات چیت کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تائید کی۔