150 سالہ قدیم ریس کورس مسجد پر انہدام کا خطرہ اے پی سی آر کی لیفٹیننٹ گورنر سے فوری مداخلت کی درخواست
تنظیم کے مطابق یہ مسجد ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے اور اسے دہلی حکومت کے نوٹیفکیشن میں گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔
نئی دہلی : ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو کو ایک تحریری عرضداشت پیش کرکے جے پور پولو گراؤنڈ میں واقع 150 سال سے زائد قدیم ریس کورس مسجد کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ جاری ریلیز کے مطابق تنظیم کے مطابق یہ مسجد ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے اور اسے دہلی حکومت کے نوٹیفکیشن میں گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔
اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان کی جانب سے پیش کردہ درخواست مذکورہ مسجد کا اندراج دہلی انتظامیہ کے سرکاری گزٹ میں 8 ستمبر 1977 کو سلسلہ نمبر 18 کے تحت کیا گیا تھا۔ اس اندراج میں مسجد، حجرہ، کنواں اور قبرستان کا ذکر ہے، جو تقریباً دو بیگھہ اراضی پر واقع ہیں۔ درخواست کے مطابق یکم اکتوبر 2026 کو دہلی حکومت کے محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی اس مقام کو ‘مسجد اور احاطہ’ کے طور پر گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اے پی سی آر نے درخواست میں بتایا ہے کہ 17 اکتوبر کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او)، نئی دہلی ریجن کے ڈپٹی افسر کنال بھاسکر دیگر حکام کے ساتھ مسجد کے احاطے میں پہنچے تھے، جہاں مبینہ طور پر مسجد کو منہدم کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کبھی غیر قانونی تعمیر یا ناجائز تجاوزات قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی اور من مانا اقدام ہوگی۔
درخواست میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ مسجد اور اس کے آس پاس آباد جھگی بستیوں کی قانونی حیثیت کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق اگر ان بستیوں کو ہٹانے کا معاملہ زیر غور ہے تو اس کا اطلاق تاریخی مسجد پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسجد ان بستیوں سے کہیں قدیم ہے اور اس کی اپنی مستقل قانونی حیثیت ہے۔ جھگیوں کو ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات کی آڑ میں مسجد کو خالی کرانے یا منہدم کرنے کی کارروائی ان احکامات کے دائرے سے تجاوز ہوگی۔
اے پی سی آر نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وقف جائیدادوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کو براہ راست لیفٹیننٹ گورنر سے رجوع کرنا پڑا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر فوری ہدایات جاری کرکے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کو ریس کورس مسجد منہدم کرنے سے روکیں اور اس تاریخی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مسجد کی نوٹیفائیڈ وقف جائیداد اور گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملحقہ بستیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں اس قدیم عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔