حیدرآباد

ایران–اسرائیل تنازع پر اسدالدین اویسی کا سخت ردِعمل

اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے وزیرِاعظم کے دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور ساتھ ہی غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی

حیدرآباد : میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر مرکزی حکومت سے کڑے سوالات کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اڈوانی کو تشدد میں ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی قبروں کے سہارے ایوارڈ کا حصول: اویسی
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
مولانا نصیر الدین قاسمی کی ضمانت منظور، جمعیۃ علماء کی قانونی جدوجہد رنگ لے آئی
ماہِ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، پہلے عشرے کے بعد بھی غفلت نہ برتی جائے: مولانا جعفر پاشاہ

اویسی نے کہا کہ اگر اس وقت وزیرِاعظم کا طیارہ فضا میں ہوتا اور اسی دوران ایسا حملہ ہو جاتا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کو ملک کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھارت کو پہلے سے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیتن یاہو نے وزیرِاعظم کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کیا تھا تو وزیرِاعظم کو فوری طور پر اپنا دورہ منسوخ کرکے ملک واپس آ جانا چاہیے تھا۔ اور اگر اسرائیل نے بھارت کو یہ اطلاع نہیں دی کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے، تو یہ بھارت کے ساتھ دھوکہ ہے۔

اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے وزیرِاعظم کے دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور ساتھ ہی غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، ایران کے ساتھ نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس حملے سے بھارت کو آخر کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟ اویسی کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی پر وضاحت دینی چاہیے تاکہ ملک اور دنیا میں بھارت کا مؤقف واضح ہو سکے۔