ایشیاء

اسپین کے صوبے ٹولیڈو میں دو ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 30 افراد ہلاک، تقریباً 100 زخمی

اسپین کے صوبے ٹولیڈو میں بدھ کی صبح دو ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکومت کے ایک عہدیدار نے یہ اطلاع دی۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

میڈرڈ: اسپین کے صوبے ٹولیڈو میں بدھ کی صبح دو ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکومت کے ایک عہدیدار نے یہ اطلاع دی۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔


سی این این اور ہسپانوی اخبار ال پائیس کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ تباہ شدہ بوگیوں کے ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارکن تیزی سے کارروائیاں کر رہے ہیں، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 8 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ یہ تیز رفتار ریلوے لائن میڈرڈ کے علاقے کو جنوبی اسپین کے شہر سیویل سے جوڑتی ہے۔


ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، نجی ریلوے کمپنی ایریو (Iryo) کی ایک ٹرین یا تو کھڑی تھی یا کم رفتار سے چل رہی تھی کہ سرکاری ریلوے کمپنی رینفے (Renfe) کی تیز رفتار اے وی ای ٹرین اس سے ٹکرا گئی۔ علاقائی ایمرجنسی خدمات کے مطابق، رینفے ٹرین کا ایک حصہ پٹری سے اتر گیا، جبکہ ایریو ٹرین کی کئی بوگیاں بھی پٹری سے اتر گئیں۔


دونوں ٹرینوں میں سیکڑوں مسافر سوار تھے۔ علاقائی حکومت کی ترجمان ایسٹر پادیلا نے بتایا کہ ایک ٹرین میں 146 مسافر اور ایک شیرخوار بچہ سوار تھا، جبکہ دوسری ٹرین میں 397 مسافر موجود تھے۔


وسطی اسپین کے علاقے اُردا کے قریب جائے حادثہ پر فائر بریگیڈ کی درجنوں گاڑیاں، ایمبولینسیں اور پولیس کی گاڑیاں بھیجی گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں کم از کم تین ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے تھے۔


کچھ مسافروں کو بسوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ ریڈ کراس نے زخمیوں اور حادثے سے متاثرہ دیگر افراد کو امداد فراہم کی۔


رینفے ٹرین میں سفر کرنے والے ایک مسافر نے سی این این کو بتایا کہ حادثے سے کچھ دیر پہلے ٹرین تقریباً 20 منٹ تک رکی رہی تھی اور پھر دوبارہ چل پڑی تھی۔


مسافر پیٹریشیا الواریز نے تصادم کی شدت اور اپنی بوگی کے اندر ہونے والی تباہی بیان کرتے ہوئے کہا، ”کچھ لوگ ہوا میں اچھل کر دور جا گرے۔”


اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ وہ وزیر ٹرانسپورٹ اور علاقائی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امدادی خدمات متاثرہ افراد کی مدد میں مصروف ہیں۔


علاقائی حکومت کاسٹیلا لا مانچا نے بھی خون کے عطیات دینے کی اپیل کی ہے، کیونکہ اسپتال اور امدادی ٹیمیں حادثے کے متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔


ریلوے یونین کے ترجمان رافیل اسکودیرو نے اس حادثے کو غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے ہسپانوی ریڈیو اسٹیشن انٹینا 3 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرینوں کی نقل و حرکت پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جاتی ہے اور انہیں پٹریوں کی حالت سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔


حادثے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی ہے۔


اسپین میں رواں سال اس سے پہلے بھی ریلوے کے دو حادثات پیش آچکے ہیں۔ جنوری میں جنوبی صوبے قرطبہ کے علاقے اداموز کے قریب ٹرینوں کے تصادم میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ اس کے بعد بارسلونا کے قریب ایک مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی تھی۔