بھارتی طلبہ کے لیے آسٹریلیا کے ویزا قوانین سخت، بھارت کو ہائی رسک کیٹیگری میں شامل کر دیا گیا
آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند بھارتی طلبہ کے لیے ایک اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے
آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند بھارتی طلبہ کے لیے ایک اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے اور بھارت کو اب ہائی رسک کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا کا اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، جس سے ہزاروں طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
آسٹریلیا نے بھارت کو اسیسمنٹ لیول ٹو (AL2) سے ہٹا کر اسیسمنٹ لیول تھری (AL3) میں ڈال دیا ہے۔ اس سے قبل AL2 میں ہونے کی وجہ سے بھارتی طلبہ کو ویزا کے عمل میں نسبتاً آسانی حاصل تھی، لیکن اب AL3 میں شامل ہونے کے بعد درخواستوں کی سخت جانچ پڑتال، اضافی ویریفکیشن اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ AL3 ہائی رسک کیٹیگری میں پہلے ہی نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور پاکستان جیسے جنوبی ایشیائی ممالک شامل ہیں، اور اب بھارت کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت بھارتی طلبہ کے تعلیمی دستاویزات، مالی حیثیت، انگریزی زبان پر مہارت اور عارضی قیام کی نیت جیسے پہلوؤں کا تفصیلی اور سخت جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حال ہی میں کیرالہ میں جعلی ڈگری سرٹیفکیٹس کا ایک بڑا ریکیٹ بے نقاب ہوا تھا، جس میں بیرون ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ کو جعلی دستاویزات فراہم کی جا رہی تھیں۔ اسی واقعے کے بعد آسٹریلوی حکام نے بھارتی درخواستوں پر سختی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ غیر مستند یا جعلی کاغذات کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کے امکانات کو روکا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ میں سب سے بڑی تعداد بھارتی طلبہ کی ہی ہوتی ہے، اس کے باوجود بھارت کو ہائی رسک کیٹیگری میں شامل کیا جانا کئی طلبہ اور تعلیمی ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ آسٹریلیا کی نئی ویزا پالیسی 8 جنوری سے نافذ ہو چکی ہے اور اب تمام نئی درخواستیں انہی قواعد کے تحت جانچی جا رہی ہیں۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان سخت قوانین کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل، مستند اور سنجیدہ طلبہ کو ہی آسٹریلیا میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے اور ویزا نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ آسٹریلیا جانے کے خواہش مند بھارتی طلبہ اپنی تمام تعلیمی اور مالی دستاویزات مکمل، درست اور قابلِ تصدیق رکھیں، انگریزی زبان کے تقاضوں پر خاص توجہ دیں اور ویزا کے لیے پہلے سے تیاری کے ساتھ درخواست جمع کریں، تاکہ کسی ممکنہ پریشانی سے بچا جا سکے۔