سوشیل میڈیا

بجرنگ دل کی جانب سے دکان کے نام پر مسلم شخص کو ہراساں کرنے کی کوشش، محمد دیپک کا منہ توڑ جواب: ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

یہ بزرگ دکاندار کئی برسوں سے اپنی دکان “بابا” کے نام سے چلا رہے ہیں۔ معاملہ اس وقت بگڑا جب کچھ افراد نے دکان کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اتراکھنڈ سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے ملک بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں محمد دیپک (اصل نام دیپک کمار) نے ایک بزرگ مسلم دکاندار کے حق میں مداخلت کر کے مبینہ ہراسانی کو روک دیا۔ یہ بزرگ دکاندار کئی برسوں سے اپنی دکان “بابا” کے نام سے چلا رہے ہیں۔ معاملہ اس وقت بگڑا جب کچھ افراد نے دکان کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں
9 نومبر کی تاریخ گزرگئی، اتراکھنڈمیں یو سی سی لاگو نہ ہونے پر کانگریس کا طنز
کانوڑ یاترا، سپریم كورٹ كی عبوری روک میں توسیع
اتراکھنڈ کے گاؤں میں آگ لگنے سے 14 گھر جل کر خاکستر، 6 افراد جھلسے
ہلدوانی میں صورتحال معمول پرنیم فوجی فورسس کی مزید کمپنیاں تعینات
ہلدوانی تشدد کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم۔ 6 کروڑ کا نقصان

یہ واقعہ ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔ ویڈیو اور مقامی اطلاعات کے مطابق، خود کو بجرنگ دل سے وابستہ بتانے والے چند افراد بزرگ دکاندار کی دکان میں داخل ہوئے اور دکان کے نام “بابا” پر اعتراض کیا۔ دکاندار نے وضاحت کی کہ ان کا اصل نام پہلے ہی بورڈ پر درج ہے، مگر اس کے باوجود نام بدلنے پر زور دیا گیا۔

اسی دوران دیپک نے موقع پر پہنچ کر مداخلت کی اور مطالبے کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ دکان کا نام نہیں بدلا جائے گا، کیونکہ انسانیت سب سے بالا ہے اور معاشرے کو نفرت نہیں بلکہ محبت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ ان کے مضبوط مؤقف کے بعد وہاں موجود افراد موقع سے چلے گئے اور ہراسانی کا سلسلہ بغیر کسی نقصان یا تشدد کے ختم ہو گیا۔

واقعے کی اہم بات یہ ہے کہ بزرگ دکاندار طویل عرصے سے “بابا” کے نام سے کاروبار کر رہے تھے اور تنازع صرف نام بدلنے کے مطالبے پر کھڑا ہوا۔ دیپک نے نہ صرف بزرگ شخص کا ساتھ دیا بلکہ پرسکون اور مضبوط انداز میں صورتحال کو قابو میں لانے میں کامیابی حاصل کی۔

مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین نے دیپک کے اقدام کو شہری جرأت اور سماجی ذمہ داری کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ پُرامن اور مضبوط موقف اپنانے سے ہراسانی کو روکا جا سکتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو بچایا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف اتراکھنڈ بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ ایسے اقدامات معاشرے میں اعتماد، اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرتے ہیں۔ دیپک اور “بابا” نامی دکاندار سے جڑا یہ واقعہ اب ایک یاد دہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ فردِ واحد کی جرأت اور انسانیت کا احترام حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔