بنگلہ دیش: تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر پرتشدد مظاہرے؛ 42 سے زائد کپڑا کارخانوں میں کام کاج ٹھپ
بنگلہ دیش کے اشولیا، غازی پور اور میرپور صنعتی علاقوں میں کم از کم اجرت کے مطالبے پر ہفتے کے روز مزدوروں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے بعد کم از کم 42 تیار ملبوسات کے کارخانوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کام کاج بند کرنا پڑا ہے۔
ڈھاکہ:بنگلہ دیش کے اشولیا، غازی پور اور میرپور صنعتی علاقوں میں کم از کم اجرت کے مطالبے پر ہفتے کے روز مزدوروں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے بعد کم از کم 42 تیار ملبوسات کے کارخانوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کام کاج بند کرنا پڑا ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب حکومت نے اتوار کے روز ایک نئے کم از کم اجرت بورڈ کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔
کاٹھگرام علاقے میں کم از کم 30 کارخانوں میں اس وقت پروڈکشن روکنا پڑا جب مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔ پتھراؤ میں ایک پولیس افسر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
اشولیا صنعتی پولیس کے مطابق ‘نعیم نٹ ویئر’ کے مزدوروں نے صبح تقریباً 10 بجے کام کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر مظاہرہ شروع کر دیا اور آس پاس کے دیگر کارخانوں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کی مداخلت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بھگدڑ اور ایک دوسرے کو منتشر کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کے علاوہ کولاباری اور چندرا کے درمیان واقع علاقے میں 12 کارخانوں میں کام کاج بند رہا، جہاں مزدوروں نے ڈھاکہ۔ٹانگیل شاہراہ کو جام کر دیا اور کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 30000 ٹکا (تقریباً 242 امریکی ڈالر) کرنے کا مطالبہ کیا۔
میرپور-11 اور کالشی کے علاقوں میں بھی مظاہرین نے سڑکیں جام کر دیں۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر محمد ناصر رکاب دار نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے کر ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوپہر 3 بجے تک صورت حال کسی حد تک پُرسکون ہو گئی۔
اس سے قبل جمعہ کے روز محنت اور روزگار کے وزیر عارف الحق چودھری نے ڈھاکہ کے بیجئے نگر واقع لیبر بھون میں بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور بنگلہ دیش نٹ ویئر مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ میٹنگ کے بعد وزیر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اتوار کے روز باضابطہ طور پر اجرت بورڈ تشکیل دے دیا جائے گا۔
مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں کم از کم 30000 ٹکا ماہانہ اجرت دی جائے اور بلیک لسٹنگ نیز من مانے طریقے سے ملازمت سے برطرف کرنے کی روایت بند کی جائے۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 31 اکتوبر تک وعدے کے مطابق اجرت بورڈ تشکیل نہ دیے جانے کی وجہ سے مزدوروں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
مسٹر چودھری نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت ان کے مطالبات پر ٹھوس اقدامات کر رہی ہے تو مزید احتجاج اور مظاہرے کرنا غیر ضروری ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کچھ بیرونی عناصر مزدور تنظیموں کی آڑ میں تشدد بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ اور پولیس سے اپیل کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ایسے دراندازوں کی شناخت کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی وزیر نے کارخانوں کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ بقایا تنخواہوں کی جلد ادائیگی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ماہ کی تنخواہ اگلے مہینے کے پہلے 7 دنوں کے اندر ادا کر دی جائے۔ تاہم، انہوں نے خبردار بھی کیا کہ کارخانوں میں توڑ پھوڑ اور تشدد سے پروڈکشن متاثر ہوگا، جس سے وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔