دہلی

بی جے پی آزادی تقریر کو کچل رہی ہے: پرمود تیواری

کانگریس قائد پرمود تیواری نے آزادی تقریر کو دانستہ کچلنے پر بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آزادی ئ تقریر اپوزیشن قائدین کا حق ہے اور خاص طورپر قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس)کانگریس قائد پرمود تیواری نے آزادی تقریر کو دانستہ کچلنے پر بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آزادی ئ تقریر اپوزیشن قائدین کا حق ہے اور خاص طورپر قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

تیواری نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو حکومت پر تنقید کرنے سے روکنے کے لئے اپنے اختیارات استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک دیکھ چکا ہے کہ جب بھی راہول گاندھی تقریر کرنے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کیمروں کا رخ موڑدیا جاتا ہے اور مائیکروفون بند کردیا جاتا ہے۔

حکمراں جماعت کی جانب سے ان کے آزادی ئ اظہار اور ان کے حقوق کو دانستہ طورپر کچلاجارہا ہے اور جمہوریت کی اہمیت گھٹائی جارہی ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ بی جے پی حکومت آمرانہ ہے۔ تیواری نے ایک حالیہ واقعہ کے بعد یہ تبصرہ کیا ہے جس میں راہول گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر اظہارِ تشویش کرنے کی کوشش کی تھی۔

راہول گاندھی نے کہا ہے کہ جب بھی وہ اپنی مخالفت کا اظہار کرنے کھڑے ہوتے ہیں ان کی کوششوں کو روکا جاتا ہے اور انہیں بولنے سے روکنے کے لئے کارروائی کو ملتوی کردیا جاتا ہے۔ قبل ازیں اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے قائد اپوزیشن راہول گاندھی سے کہا تھا کہ وہ ایوان کے آداب کا پاس و لحاظ رکھیں اور زور دے کر کہا تھا کہ بعض اقدامات پارلیمانی معیارات کے مطابق نہیں ہیں۔

راہول گاندھی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر تبصرہ کرنے کے علاوہ تیواری نے سنبھل کے سرکل آفیسر انوج چودھری کی جانب سے دیئے گئے متنازعہ بیان پر بھی تنقید کی۔ سرکل آفیسر انوج چودھری نے سنبھل میں منعقدہ امن کمیٹی کی میٹنگ کے دوران کہا تھا ”اگر آپ عید کی سیویاں پیش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو گجیا بھی کھانا ہوگا“۔

تیواری نے اس بیان کی مذمت کی اور بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر ایسے تبصرے کررہی ہے تاکہ غیرضروری پھوٹ ڈالی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات دانستہ طورپر دیئے جاتے ہیں تاکہ ایک تنازعہ پیدا کیا جاسکے۔ گجیا یا سیویاں کون کھائے گا‘ کیا اس کا فیصلہ کوئی اور کرے گا؟ کیا کوئی عہدیدار اس کا فیصلہ کرے گا؟

یہ لوگ اس کا اختیار نہیں رکھتے لیکن انہیں حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے اسی لئے وہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ تیواری نے سنبھل کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوجائیں اور امن و امان برقرار رکھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے مسائل پیدا کررہی ہے۔ ہم سب ہندوؤں‘ مسلمانوں‘ سکھوں اور عیسائیوں کو متحد ہوجانا چاہئے‘ امن و امان برقرار رکھنا چاہئے اور بی جے پی کی سازش کو ناکام بنانا چاہئے۔