تلنگانہ

بی جے پی کے 12ویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں گول صفر: کلواکنٹلہ کویتا کا شدید ردِعمل

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ بی جے پی کی عادت بن چکی ہے۔

صدر تلنگانہ جاگروتی کلوا کنٹلہ نے مرکزی بجٹ پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے لگاتار 12ویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں گول صفر آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ بی جے پی کی عادت بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

کویتا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی روزانہ کوآپریٹیو فیڈرلزم کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر تلنگانہ کے ساتھ اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وقت کئے گئے وعدے اور مختلف اہم پروجیکٹس کے لئے درکار فنڈس آج تک التوا میں رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے بی جے پی کو 8 لوک سبھا ایم پیز دیئے، مگر بدلے میں ریاست کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ واجب الادا فنڈس دینے کے بجائے صرف التوا شدہ فائلیں تھمائی جا رہی ہیں۔ کویتا کے مطابق 34 ہزار 367 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ریجنل رنگ روڈ، ہائی ویز اور ریڈیئل روڈس کے لئے فنڈس روک دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد میٹرو مرحلہ-2 کی توسیع کے لئے مرکز کی جانب سے دیئے جانے والے 50 فیصد فنڈس بھی آج تک فراہم نہیں کئے گئے۔ اسی طرح نئی ریلوے لائنوں کو منظوری نہیں دی جا رہی اور ورنگل کوچ فیکٹری منصوبہ بھی مسلسل التوا کا شکار ہے۔

کویتا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کو ملنے والا آئی آئی ایم، 16 نوودیہ ودیالیہ اور 9 کیندریہ ودیالیہ بھی آج تک منظور نہیں کئے گئے۔ ریاستی تقسیم کے ایک اہم وعدے بیارم اسٹیل فیکٹری کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ صنعتی مراعات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کی فہرست تیار کی جائے تو وہ بہت طویل ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اعظم مودی کا کوآپریٹیو فیڈرلزم یہی ہے کہ تلنگانہ کے مفادات کو مسلسل نظر انداز کیا جائے؟