تلنگانہ

نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون سازی کیلئے اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ، بی آر ایس قائدین کی کے ٹی آر سے ملاقات

بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سینئر قائدین علی بن ابراہیم مسقطی، نوید اقبال اور محمد یونس اکبانی نے بوتھ کے رکن اسمبلی انیل جادھو کے ہمراہ بی آر ایس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی۔

بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سینئر قائدین علی بن ابراہیم مسقطی، نوید اقبال اور محمد یونس اکبانی نے بوتھ کے رکن اسمبلی انیل جادھو کے ہمراہ بی آر ایس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران قائدین نے ریاست تلنگانہ میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام کیلئے ایک جامع اور مضبوط قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک مفصل نمائندگی پیش کی۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

قائدین نے اپوزیشن کی حیثیت سے بی آر ایس قیادت سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ اسمبلی میں ایک باضابطہ قرارداد یا تجویز پیش کی جائے، جس کے ذریعے کرناٹک میں حال ہی میں نافذ کیے گئے قانون کی طرز پر نفرت انگیز تقاریر اور جرائمِ منافرت کے خلاف مؤثر قانون سازی کی راہ ہموار ہو۔ نمائندگی میں کہا گیا کہ کرناٹک کا قانون ایک اہم آئینی اقدام ہے، جس میں نفرت انگیز تقریر کی واضح تعریف شامل ہے۔

بی آر ایس قائدین نے وضاحت کی کہ مذکورہ قانون کے تحت زبانی اور تحریری الفاظ، اشارے، علامات، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا مواد، عوامی تقاریر اور منظم مہمات، جو مذہب، ذات، زبان، نسل یا شناخت کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت، عداوت یا تشدد کو فروغ دیں، نفرت انگیز تقاریر کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نفرت پر مبنی جرائم کو سنگین جرائم قرار دے کر ان کیلئے سخت سزاؤں اور مقررہ مدت میں تحقیقات و عدالتی کارروائی کو لازمی بنایا گیا ہے۔

تلنگانہ کے تناظر میں قائدین نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ریاست کے چیف منسٹر پہلے ہی اس نوعیت کے قانون کی ضرورت کا اعتراف کر چکے ہیں، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نمائندگی میں بتایا گیا کہ حالیہ عرصے کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں سے تقریباً پچاس فرقہ وارانہ یا فرقہ واریت سے متعلق واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو سماجی ہم آہنگی اور امن و امان کیلئے تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

قائدین نے حالیہ پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک معطل شدہ رکن اسمبلی کو جارحانہ نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کیلئے خفیہ گروپ بنانے کی بات کی گئی۔ قائدین کے مطابق اس طرح کے بیانات کھلے عام تشدد پر اکسانے کے مترادف ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و داخلی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہیں۔

نمائندگی میں بی آر ایس حکومت کے دور میں کی گئی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2022 میں نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں ایک رکن اسمبلی کے خلاف پریوینٹیو ڈی ٹینشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی، جس سے یہ واضح پیغام گیا کہ نفرت پھیلانے والے عناصر کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قائدین کے مطابق یہ اقدام امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی اقدار سے بی آر ایس کی وابستگی کا ثبوت ہے۔

قائدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تلنگانہ میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم سے نمٹنے کیلئے کسی مخصوص اور جامع قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عمومی تعزیری دفعات پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو منظم اور بار بار جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔ ایک واضح اور مضبوط قانون نہ صرف سخت بازدار ثابت ہوگا بلکہ کمزور طبقات کے تحفظ اور ریاست کے تکثیری سماجی ڈھانچے کے استحکام میں بھی مددگار ہوگا۔

اس موقع پر بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے قائدین کی بات کو توجہ سے سنا اور بتایا کہ اسمبلی کا موجودہ اجلاس محدود مدت کا ہے اور ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہونے کے باعث اس اجلاس میں اس مسئلے کو پیش کرنا مشکل ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ نہایت اہم موضوع ہے اور بی آر ایس آئندہ اسمبلی اجلاسوں کے علاوہ دیگر جمہوری اور سیاسی فورمز پر بھی اس مسئلے کو پوری شدت کے ساتھ اٹھائے گی۔

بی آر ایس قائدین نے امید ظاہر کی کہ اگر اس نوعیت کی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو یہ تعمیری اپوزیشن سیاست کی ایک مثال ہوگی اور حکومت پر اخلاقی و قانون ساز دباؤ بڑھے گا، جس سے نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کے خلاف مؤثر قانون سازی کی راہ ہموار ہو سکے گی، جو تلنگانہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوگا۔