بولارم میں بچی کے اغوا اور قتل کا معاملہ، ایک اور سکیورٹی گارڈ اور الیکٹریشن حراست میں
تلنگانہ کے بولارم میں بچی کے اغوا اور قتل کے معاملے میں تحقیقات کے دوران مزید اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے مرکزی ملزم وکرم کی مبینہ طور پر مدد کرنے کے شبہ میں ایک اور سکیورٹی گارڈ اور ایک الیکٹریشن کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے بولارم میں بچی کے اغوا اور قتل کے معاملے میں تحقیقات کے دوران مزید اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے مرکزی ملزم وکرم کی مبینہ طور پر مدد کرنے کے شبہ میں ایک اور سکیورٹی گارڈ اور ایک الیکٹریشن کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، وکرم ایک سکیورٹی گارڈ تھا، جسے مبینہ طور پر خراب رویے کی وجہ سے ولا کے مالکان نے واردات سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ملازمت سے ہٹا دیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اسی رنجش کے تحت اس نے بچی کو اغوا کرکے اس کے والد سے رقم طلب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
تحقیقات کے دوران ایک انتہائی تشویش ناک تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس وقت بچی کو قتل کیا جارہا تھا، اس وقت علاقے میں بتکما کی تقریبات جاری تھیں۔ الزام ہے کہ الیکٹریشن نے بچی کی چیخوں کو دبانے کے لیے اسپیکر کی آواز تیز کردی تھی۔
پولیس کے مطابق، بچی کے والد کو فون کرکے رقم طلب کرنے کے لیے مبینہ طور پر استعمال کیا گیا موبائل فون ایک دوسرے سکیورٹی گارڈ کے پاس سے ملا ہے۔ اس انکشاف کے بعد پولیس اس سکیورٹی گارڈ کے ممکنہ کردار کی بھی جانچ کررہی ہے۔
پولیس نے دونوں افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انہوں نے واردات میں کسی بھی طرح مدد کی تھی اور اس معاملے میں ان کا اصل کردار کیا تھا۔
پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کررہی ہے۔ مزید تفصیلات پوچھ تاچھ اور شواہد کی جانچ کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔