حیدرآباد

حیدرآباد میں خاتون کے ساتھ جنسی ہراسانی کا الزام، سافٹ ویئر انجینئر کے خلاف مقدمہ درج

نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ خاتون نے حیدرآباد میں قیام کے دوران جنسی ہراسانی اور نازیبا سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔

حیدرآباد: نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ خاتون نے حیدرآباد میں قیام کے دوران جنسی ہراسانی اور نازیبا سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔

شکایت کے مطابق خاتون 5 مارچ سے 23 مارچ کے درمیان ہندوستان کے دورے پر آئی تھیں اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ کونڈاپور میں قیام پذیر تھیں۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے اس دوران کئی مرتبہ ان کے بوائے فرینڈ کی غیر موجودگی میں ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

خاتون کے مطابق 17 مارچ کو جب وہ گھر میں اکیلی تھیں، ملزم مبینہ طور پر نیم برہنہ حالت میں وہاں پہنچا اور ان کے ساتھ نامناسب انداز میں چھوا۔ ملزم نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ اس طرح کا سلوک اس کا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد کرے گا۔

شکایت کے مطابق خاتون کے بوائے فرینڈ کے گھر واپس آنے کے بعد وہ مزید جنسی زیادتی سے بچ گئیں۔

نیدرلینڈز واپس پہنچنے کے بعد خاتون نے مبینہ واقعہ کے بارے میں اپنے بوائے فرینڈ کو بتایا۔ انہوں نے اس معاملے کی اطلاع ڈچ سفارتخانے کو بھی دی اور 22 جولائی کو حیدرآباد واپس آکر پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔

خاتون کی شکایت کی بنیاد پر گچی باؤلی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 74، 75، 78 اور 79 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آدتیہ آنند کے طور پر ہوئی ہے، جو ریاست بہار سے تعلق رکھنے والا سافٹ ویئر انجینئر ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے، تاہم وہ فی الحال مفرور بتایا جا رہا ہے۔

پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش جاری ہے۔