سی بی آئی نے انیل امبانی کے خلاف 1085 کروڑ روپے کے پی این بی فرض فراڈ کا معاملہ درج کیا
انیل امبانی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کے چیف مینیجر سنتوش کرشنا اناواراپو کی شکایت پر ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 420 (دھوکہ دہی) اور 120 بی (مجرمانہ سازش) کے تحت ایک نیا معاملہ درج کیا ہے۔
نئی دہلی: انیل امبانی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کے چیف مینیجر سنتوش کرشنا اناواراپو کی شکایت پر ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 420 (دھوکہ دہی) اور 120 بی (مجرمانہ سازش) کے تحت ایک نیا معاملہ درج کیا ہے۔
سی بی آئی کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی کاپی یو این آئی کے پاس موجود ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، 2013 سے 2017 کے درمیان انیل امبانی نے ریلائنس کمیونیکیشنز کے اس وقت کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر پی این بی سے 1,085 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی۔ بینک کا الزام ہے کہ ریلائنس کمیونیکیشنز نے 1,085 کروڑ روپے کا قرض واپس نہ کرنے کی نیت سے حاصل کیا تھا۔
پی این بی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر بینک سے حاصل کردہ رقم کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے بینک کی رقم کا غلط استعمال کیا، جو دھوکہ دہی اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔
ایف آئی آر میں ریلائنس کمیونیکیشنز، انیل امبانی اور مظہری کاکڑ سمیت کچھ دیگر نامعلوم افراد کو معاملے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔