ایشیاء

چین نے جاپان سے غلط راستے پر آگے بڑھنے سے گریز کرنے کی اپیل کی

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعرات کے روز معمول کی پریس بریفنگ میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جاری رپورٹ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ تبصرے کیے۔ رپورٹ کے مطابق تائیوان کے بارے میں جاپان کے پہلے کے مؤقف میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

بیجنگ: چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین نے جاپان سے اپنی غلطیوں پر غور کرنے، ان کی اصلاح کرنے، اپنا موقف تبدیل کرنے اور غلط راستے پر آگے بڑھنے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعرات کے روز معمول کی پریس بریفنگ میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جاری رپورٹ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ تبصرے کیے۔ رپورٹ کے مطابق تائیوان کے بارے میں جاپان کے پہلے کے مؤقف میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

متعلقہ خبریں
ہند۔چین معاہدہ کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں: راشدعلوی
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی
نیتاجی کی استھیاں واپس لانے چندر کمار بوس کا وزیر اعظم سے مطالبہ
چین کی بادشاہت کے ساتھ پیرس اولمپکس کا اختتام
مالدیپ کے صدر کاچین اور ہندوستان سے اظہار تشکر

تاہم جاپانی حکومت نے کہا کہ بقاء کے خطرے کے تعین کے لیے اس کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

مسٹر لن جیان نے کہا کہ جاپانی وزیرِ اعظم کے تائیوان سے متعلق غلط بیان سے چین کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت ہوئی ہے، تائیوان کے معاملے میں مسلح مداخلت کرنے کی جاپان کی خواہش بے نقاب ہوئی ہے اور چین کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس سلسلے میں بارہا اپنی شدید تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بین الاقوامی برادری محترمہ تاکائیچی کے تبصروں میں کارفرما بدنیتی اور ان کے اثرات سے آگاہ ہو رہی ہے اور جاپان کی اشتعال انگیز کارروائیوں کو بے نقاب کرنے والے خطرناک اقدامات کے بارے میں محتاط ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان کے لیے صرف یہ دعویٰ کرکے خود کو درست ثابت کرنا اور اپنے ایشیائی ہمسایوں اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہے کہ اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

محترمہ لن جیان نے کہا کہ ‘جاپان سے چین کی یہ اپیل ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پر غور کرے اور ان کی اصلاح کرے، اپنا موقف بدلے اور چین و جاپان کے درمیان طے شدہ چار سیاسی دستاویزات پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، اپنی عہد بندی پر قائم رہے، جاپانی آئین میں شامل امن کی دفعات کی پابندی کرے اور غلط راستے پر آگے بڑھے سے گریز کرے۔