تلنگانہ

نظام آباد ضلع میں کئی رائس ملوں پر سی آئی ڈی کے چھاپے، چار گرفتار

حکام کو شبہ ہے کہ بعض مل مالکان نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ دھان کو مقررہ طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیا، جبکہ حکومت کو فراہم کیے جانے والے چاول کی مقدار اور معیار میں بھی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ بعض معاملات میں باریک چاول کے بجائے موٹے چاول فراہم کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

نظام آباد: تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں سنّا چاول سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سی آئی ڈی نے کئی رائس ملوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران مل مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ چار افراد کو گرفتار کرنے اور مزید دو افراد کے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، حکام کی توجہ ان رائس مل مالکان پر مرکوز ہے جن پر کسٹم ملڈ رائس (سی ایم آر) کے لیے مختص دھان کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے یا اس میں بے ضابطگیاں کرنے کا الزام ہے۔

سی آئی ڈی حکام اس معاملے میں رائس مل مالکان اور کاروباری افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات اور اس میں ملوث افراد کے کردار کا پتہ لگایا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی سرکاری دھان کی کسٹم ملڈ رائس (CMR) اسکیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حصہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت کسانوں سے دھان خرید کر رائس ملوں کو فراہم کرتی ہے، جہاں اسے چاول میں تبدیل کرکے مقررہ مقدار حکومت کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔

حکام کو شبہ ہے کہ بعض مل مالکان نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ دھان کو مقررہ طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیا، جبکہ حکومت کو فراہم کیے جانے والے چاول کی مقدار اور معیار میں بھی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ بعض معاملات میں باریک چاول کے بجائے موٹے چاول فراہم کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ریاست بھر میں تحقیقات کا دائرہ وسیع

تلنگانہ میں اس معاملے کی تحقیقات نظام آباد کے علاوہ نلگنڈہ، کریم نگر، رنگاریڈی، میدک، ملوگو اور دیگر اضلاع تک پھیل گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ریاست بھر میں مبینہ بے ضابطگیوں سے سرکاری خزانے کو تقریباً 96 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ریاستی سطح پر 16 رائس مل مالکان کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔