روس کی ایران میں مداخلت، اشتعال انگیزی اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی مذمت کی
انہوں نے ایران کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ سے اپنے بڑھتے ہوئے اقدامات کو روکنے ختم کرنے کی اپیل کہ اور کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکی قیادت کی "انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی" اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ کھلے عام ایران کے سرکاری اداروں پر قبضہ کرنے اور مظاہرین کی مدد کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ: روس نے ایران کے خلاف ہر قسم کی بیرونی مداخلت، تشدد پر اکسانے اور طاقت کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف بیرونی مداخلت، تشدد پر اکسانے اور طاقت کی دھمکیوں کی ہر قسم کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے ایران کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ سے اپنے بڑھتے ہوئے اقدامات کو روکنے ختم کرنے کی اپیل کہ اور کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکی قیادت کی "انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی” اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ کھلے عام ایران کے سرکاری اداروں پر قبضہ کرنے اور مظاہرین کی مدد کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ،’’اس طرح کے بیانات ایک خودمختار ملک کے آئینی نظام کو پرتشدد طریقے سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اکسانے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
مسٹر نیبنزیا نے کہا کہ "ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کَلر ریوولوشن کے آزمائے ہوئے طریقوں کے استعمال کی ایک اور مثال ہے، جس میں خاص طور پر اکسانے والے پرامن احتجاج کو بے مطلب کے تشدد میں بدل دیتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "جیسا کہ ہم پہلے ہی کئی ممالک میں بار بار دیکھ چکے ہیں، یہ تمام کارروائیاں یا تو نام نہاد حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی رکھنے والی بیرونی قوتوں کی طرف سے ہدایت کی جاتی ہیں یا ان کی حمایت کی جاتی ہے۔”
روسی سفیر نے کہا کہ امریکہ اور اس کے "حامی” عام ایرانیوں کو درپیش معاشی اور سماجی مشکلات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد غیر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ان کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا اور ملک کی سیاسی صورتحال کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
مسٹر نیبنزیا نے کہا، "سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ امریکہ کا جارحانہ انداز، ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی۔ ہم ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں، گرچہ انہیں جواز فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی دلیل دی جائے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "ہم امریکہ اور دیگر ممالک کے دارالحکومتوں میں موجود ان گرم دماغ والوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں، جو ایک اور فوجی آپریشن کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنے ہوش میں آئیں اور جون 2025 کے سانحے کو دہرانے سے گریز کریں، جب امریکی اسرائیلی جارحیت کے باعث ایک بڑا ایٹمی حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا تھا۔”
روسی سفیر نے کہا کہ روس مطالبہ کرتا ہے کہ امریکہ اور اس کے ہم خیال شراکت دار مزید کوئی لاپرواہ قدم اٹھانے سے گریز کریں، جس میں جوہری تنصیبات سے متعلق اقدامات شامل ہیں اور اس کے بجائے مزید تنازعات کو روکنے کے لیے ٹھوس یقین دہانیاں فراہم کرنے پر توجہ دیں اور ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں دوبارہ شروع کریں۔