پرُ اعتماد کے سی آر کی جانب سے لفظ’’ شکست‘‘ کا استعمال تعجب خیز
اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ہے۔ کانگریس میں بی آر ایس قائدین کی مسلسل شمولیت اور حالیہ سروے نتائج کے بعد کانگریس پرُ جوش ہوچکی ہے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر اور بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ ہمیشہ اپنی اور پارٹی کی کامیابی کے متعلق پر اُمید رہتے ہیں، گزشتہ روز اچم پیٹ میں منعقدہ انتخابی جلسہ عام سے خطاب کے دوران کے سی آر نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہم کو شکست سے دوچار کردیں گے تو ہم آرام کریں گے۔
ہمیشہ پر اُمید رہنے والے شخص کی زبان سے شکست کا لفظ نکلنا سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ بی آر ایس قیادت کو تعجب میں ڈال دیا ہے۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے ہمیشہ بی آر ایس کی ہیٹ ٹرک، تیسری کامیابی حاصل کرنے پر اعتماد ظاہر کرتے رہے ہیں۔
اب ان کی زبان سے لفظ شکست کا نکلنا پارٹی قائدین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ان کا کہنا کہ پارٹی کی شکست سے ان کو نہ فائدہ ہوگا اور نہ ہی نقصان، بلکہ عوام کا نقصان ہوگا۔
ایک ایسے وقت جب کانگریس کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کے متعلق اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے، کے سی آر کا لفظ شکست کا استعمال پارٹی کارکنوں کو مایوسی میں ڈال سکتا ہے۔
اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ہے۔ کانگریس میں بی آر ایس قائدین کی مسلسل شمولیت اور حالیہ سروے نتائج کے بعد کانگریس پرُ جوش ہوچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں پارٹی قائدین اور کارکنوں میں اعتماد پیدا کرنے کے بجائے پارٹی قیادت کی جانب سے شکست کے متعلق بات کرنا پارٹی حلقوں کو ناامیدی کی نذر کردے گی۔
دوسری طرف چند پارٹی قائدین کا ماننا ہے کہ انتخابات کے وقت کے سی آر کی جانب سے اس طرح کے جملہ ادا کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوارن کے سی آر نے ایسے ہی جملوں کا استعمال کیا تھا۔
دوسری طرف کانگریس اوربی آر ایس کی انتخابی لڑائی دلچسپ رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔کانگریس کے کئی قائدین بی آر ایس میں اور بی آر ایس کے کئی قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔