حیدرآباد

نامپلی میں انتخابی جلسہ، کانگریس قائد راہول گاندھی کی تقریر (ویڈیو)

اے آئی سی سی قائد راہول گاندھی نے کہا کہ دہلی سے بی جے پی حکومت کو بے دخل کرنے کے لئے پہلے تلنگانہ سے کے سی آر حکومت اور اِس کی حلیف ایم آئی ایم کو ہٹانا اور کانگریس کو جتانا ہوگا۔

حیدر آباد: اے آئی سی سی قائد راہول گاندھی نے کہا کہ دہلی سے بی جے پی حکومت کو بے دخل کرنے کے لئے پہلے تلنگانہ سے کے سی آر حکومت اور اِس کی حلیف ایم آئی ایم کو ہٹانا اور کانگریس کو جتانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں
الکٹورل بانڈس سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ: شجاعت علی صوفی
حلقہ اسمبلی نامپلی سے بہوجن مکتی پارٹی امیدوار نذیر احمد انصاری کا پرچہ نامزدگی داخل
کانگریس کو انڈین یونین مسلم لیگ کی غیر مشروط تائید
مودی کے رام راج میں دلتوں کو نوکری نہیں ملتی: راہول گاندھی
انڈیا بلاک کی حکومت بننے پر 50 فیصد ریزرویشن کی حد برخاست کردینے راہول گاندھی کا وعدہ

راہول گاندھی آج حلقہ اسمبلی نامپلی میں کانگریس اُمیدوار کے انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہماری لڑائی نفرت کے خلاف ہے۔ بی جے پی اور بی آر ایس پورے دیش میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں۔ میں کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ نفرت کے خلاف عوام کو محبت کا پیغام دیا۔

نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کا نعرہ بلند کیا۔ میں نے محبت کے نفاذ کا احیاء کرتے ہوئے عوام کے دلوں میں جوڑنے کی کوشش کی ہے لیکن بی جے پی کی حکومتوں نے مختلف ریاستوں میں میرے خلاف 24 مقدمات درج کئے ہیں۔ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرکے میری پارلیمنٹ رکنیت ختم کردی گئی اور میرا گھر چھین لیا گیا۔

مجھے جیل کی سزا سنائی گئی لیکن میرا گھر کوئی چار دیواری نہیں بلکہ میرا گھر سارا ہندوستان ہے۔ میں غریب عوام کے دلوں میں رہتا ہوں۔ میری لڑائی بی جے پی کے نظریات کے خلاف ہے میں کبھی ان سے مفاہمت نہیں کرسکتا۔ برسوں سے میرا خاندان یہ لڑائی لڑرہا ہے۔ اسد الدین اویسی صدر مجلس کو یہ بات سمجھنا چاہیے۔

اویسی کے پیچھے نہ ای ڈی، سی بی آئی ہے اور نہ ہی ان کی رکنیت ختم کی گئی اور نہ ہی کے سی آر کی حکومت برطرف کی گئی۔ ملک کی کسی بھی ریاست آسام، مہاراشٹرا، اترپردیش، بہار، راجستھان، گوا میں انتخابات ہوتے ہیں وہاں اویسی پہنچ جاتے ہیں اور بی جے پی کی فہرست کے مطابق ان حلقوں پر اپنے اُمیدوار کھڑے کرتے ہیں تاکہ کانگریس کو ہرایا جائے۔

کیوں کہ بی آر ایس، ایم آئی ایم اور بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور تینوں مل کر کانگریس کو ہرانا چاہتے ہیں۔ بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے بی جے پی حکومت کے ہر بل کی تائید کی ہے۔ یہاں تلنگانہ میں ایم آئی ایم، بی آر ایس کی تائید کرتی ہے۔ چنانچہ پہلے یہاں بی آر ایس اور ایم آئی ایم کو شکست دینا ہوگا۔

اب کے سی آر کا وقت ختم ہوگیا ”بائے بائے“ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم کو شکست دینا ہوگا اور فیروز خان کو نامپلی سے اور تمام کانگریس اُمیدواروں کو جتانا ہوگا۔

قبل ازیں نامپلی اُمیدوار فیروز خان جوبلی ہلز اُمیدوار محمد اظہر الدین، ارشد خان، عثمان محمد خان و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔