اقوام متحدہ کی رپورٹ پر ہندوستان کا سخت اعتراض، معاملہ کیا ہے؟
نئی دہلی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی جانب سے انڈرورلڈ ڈاؤن داؤد ابراہیم کی ”ڈی“ کمپنی کو ہندوستان میں قائم مجرمانہ گروپ قرار دئے جانے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے اور اس رپورٹ میں کئی بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔

اقوام متحدہ (پی ٹی آئی) نئی دہلی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی جانب سے انڈرورلڈ ڈاؤن داؤد ابراہیم کی ”ڈی“ کمپنی کو ہندوستان میں قائم مجرمانہ گروپ قرار دئے جانے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے اور اس رپورٹ میں کئی بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔
ہندوستان نے کہا ہے کہ ایسی نااہلی‘عالمی ادارہ کو زبردست نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری رگھوپوری نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں چہارشنبہ کو اِس رپورٹ کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔
انہوں نے انسانی حقوق کے فروغ اور دہشت گردی کے مقابلہ و بنیادی آزادی کے فروغ اور تحفظ کیلئے خصوصی نمائندہ بین سول کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرا وفد خصوصی نمائندہ کی جانب سے غلط حقائق پر مبنی رپورٹس کی اجرائی اور ایسی رپورٹس کیلئے جوابدہ نہ بنائے جانے کا مسئلہ دیگر فورموں میں اٹھاتا رہا ہے اور ہماری تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اِس رپورٹ کی وجہ سے رکن ممالک کیلئے ایک بدبختانہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ پوری نے کہا کہ اسی سیاق وسباق میں ہم اپنے ملک سے متعلق چند بڑی غلطیوں کی نشاندہی کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے اس بات کااظہار کیا کہ بین سول کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2003ء میں سکریٹری کونسل نے ہندوستان میں قائم ڈی کمپنی کے سربراہ کو القاعدہ کے ساتھ تعلقات رکھنے کے سلسلہ میں نامزد کیا تھا۔ پوری نے کہا کہ اگر اس سطر کو سیاق و سابق سے ہٹ کر پڑھا جائے تو یہ حقائق کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔
پوری نے ڈی کمپنی کو ہندوستان سے تعلق رکھنے والا مجرمانہ گروپ قرار دئے جانے کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجرمانہ تنظیم اور اس کا نامزد لیڈر داؤد ابراہیم 1993ء کے دہشت گرد حملوں کے سلسلہ میں طویل عرصہ سے مطلوب ہیں۔ اس حقیقت کا تذکرہ نہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے اور خصوصی نمائندہ کی اس نااہلی سے عالمی ادارہ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔