فرانس میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو چوکسی برتنے کا مشورہ ، یوروپی ملک میں احتجاج اور تشدد کا سلسلہ جاری
ہندوستان نے فرانس میں مقیم اپنے شہریوں اور اِس ملک کا سفر کرنے والوں کو چوکنا رہنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ یوروپی ملک کے کئی حصوں میں پرتشدد جھڑپیں اور کشیدگی جاری ہے اور کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
لندن (پی ٹی آئی) ہندوستان نے فرانس میں مقیم اپنے شہریوں اور اِس ملک کا سفر کرنے والوں کو چوکنا رہنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ یوروپی ملک کے کئی حصوں میں پرتشدد جھڑپیں اور کشیدگی جاری ہے اور کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
چہارشنبہ کے روز جاری کردہ اڈوائزری میں فرانس میں قائم ہندوستانی سفارتخانہ نے ہندوستانی شہریوں سے درخواست کی کہ وہ بڑے اجتماعات اور پرہجوم مقامات پر جانے سے گریز کریں جہاں احتجاج ہورہا ہو۔ اِس کے بجائے مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
یہ اڈوائزری ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج کے نتیجہ میں بڑے پیمانہ پر فسادات اور تشددبھڑک اٹھے ہیں۔ کئی مقامات پر لوٹ مار، آتشزنی کے علاوہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ہندوستانی مشن نے شہریوں سے کہا کہ وہ مقامی نیوز رپورٹس اور حکومت فرانس کی سرکاری ویب سائٹ پر اَپ ڈیٹس کے ذریعہ باخبر رہیں۔
سرکاری زیرانتظام پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹر کی ویب سائٹ آراے ٹی پی کے ذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اڈوائزری میں کہا گیا کہ ہنگامی صورتحال میں ہندوستانی شہری پیرس میں قائم سفارتخانہ ہند یا مارسیل میں ہندوستانی قونصل جنرل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
یہ احتجاج اسکولوں میں فنڈس کی کمی اور گنجائش سے زیادہ طلبہ کے خلاف ستمبر کے اواخر میں شروع کیا گیا تھا جو اَب مہنگائی، مصارفِ زندگی میں اضافہ اور عوامی خدمات پر اندیشوں کی وجہ سے ملک گیر ریالیوں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ 17 اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا جس کے نتیجہ میں حکام کو پیرس اور دیگر شہروں بشمول للی، لیان اور نائس کے بعض حصوں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا۔
مارسیل میں بھی اجتماعات اور احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران زائد از 2400 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک ہزار سے زیادہ پولیس عہدیدار زخمی ہوئے ہیں۔