جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آن لائن تدریس کا فیصلہ، قابل اعتراض نعروں کی مذمت
اساتذہ اور عملے نے طلبہ سے احتجاج ختم کرکے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی اپیل کی۔ انتظامیہ کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے 21 اکتوبر کو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جبکہ احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں آن لائن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹی کے 1500 سے زائد تدریسی و غیر تدریسی ملازمین نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں کیمپس میں توڑ پھوڑ اور دیواروں پر قابل اعتراض نعرے لکھے جانے کی مذمت کرتے ہوئے دو قراردادیں منظور کی گئیں۔
اساتذہ اور عملے نے طلبہ سے احتجاج ختم کرکے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی اپیل کی۔ انتظامیہ کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے 21 اکتوبر کو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جبکہ احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
طلبہ کو احتجاجی مقام پر سمجھانے کی کوششوں کے دوران دھکم پیل کی شکایت سامنے آئی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر آن لائن کلاسوں کا فیصلہ کیا۔
اگلے حکم تک یونیورسٹی کے تمام گیٹ اور لائبریریاں بند رہیں گی۔ طلبہ کو آن لائن کلاسوں میں شرکت اور کیمپس آنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔