حیدرآباد

اروناچل سرحد پر چین کی مبینہ دراندازی کے معاملے میں اویسی کا مرکز سے وضاحت کا مطالبہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پوسٹوں میں اویسی نے کہا کہ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے اس معاملے کی مبینہ تصدیق تشویش ناک ہے۔

حیدرآباد :    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے جمعہ کو چین کے ساتھ اروناچل پردیش کی سرحد پر صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے ان اطلاعات پر سوال اٹھائے جن میں چینی فوجیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ہندوستانی علاقے میں داخل ہونے، ہندوستانی گشتی دستوں اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پوسٹوں میں اویسی نے کہا کہ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے اس معاملے کی مبینہ تصدیق تشویش ناک ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت نے سرحد پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ملک کو اندھیرے میں رکھا ہے۔ اویسی نے کہا کہ اس معاملے پر ان کی جانب سے پہلے اٹھائے گئے سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اویسی نے حکومت سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کتنے مقامات پر چینی فوجیوں نے مبینہ طور پر ہندوستانی علاقے میں داخل ہوکر ہندوستانی گشتی دستوں اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی اور وہاں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔

انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ یہ صورتِ حال کب سے جاری ہے اور اس دوران حکومت نے چین کے ساتھ کس نوعیت کی پالیسی اختیار کی۔

ہندوستانی علاقے کے تحفظ کی مرکز کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے سرحد کی صورتِ حال اور حکومت کے ردِعمل کے بارے میں جامع وضاحت کا مطالبہ کیا۔