تلنگانہقانونی مشاورتی کالم

سیکشن 22 اے پر حکومت کے دعوے اور زمینی حقیقت میں فرق، جائیداد مالکان اب بھی پریشان

سیکشن 22 اے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ایسی تمام جائیدادیں جو حکومت کی ہیں یا ایسی جائیدادیں جو لینڈ سیلنگ قانون کے تحت ہیں یا حصول اراضی قانون کے تحت ہیں یا سرکاری اراضیات ہیں۔

سوال: ریاست تلنگانہ میں جن جائیدادوں کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس تعلق سے حکومت کی جانب سے یہ وضاحت کی جا رہی تھی کہ ان تمام جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے نکالا جائے گا تاہم حالیہ دنوں میں ہم نے پھر ایک مرتبہ ہماری جائیداد کی منتقلی یا فروخت کی کوشش کی تو ہمیں بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے ایسے کوئی واضح احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں اور ہماری جائیداد ہنوزسیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل ہے۔

ہماری جائیداد کا گزشتہ مہینہ میں جو موقف تھا۔ ابھی بھی وہی موقف ہے۔ گزشتہ ماہ ہم نے جائیداد کی فروخت کی کوشش کی تھی۔ جائیداد کے رجسٹریشن کی مساعی کی تھی تاہم اس وقت جو پراپرٹی کا موقف تھا۔ ابھی بھی وہی موقف ہے۔ جائیداد کو ممنوعہ فہرست سے نہیں نکالا گیا ہےلیکن اخباروں میں جس طرح کی خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ سیکشن 22 اے کو بالکل ختم کر دیا جائے گا۔

ایسی کوئی بات عملی طور پر نظر نہیں آتی۔ زمینی سطح پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے۔ کیا اس تعلق سے حکومت تلنگانہ کی طرف سے کوئی احکامات جاری ہوئے ہیں۔ کیا اس معاملہ میں کوئی نیا قانون بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلات پیش کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب : سیکشن 22 اے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ایسی تمام جائیدادیں جو حکومت کی ہیں یا ایسی جائیدادیں جو لینڈ سیلنگ قانون کے تحت ہیں یا حصول اراضی قانون کے تحت ہیں یا سرکاری اراضیات ہیں۔ ریلوے کی اراضیات ہیں۔ جنگلات کی اراضیات ہیں۔ وقف یا انڈومنٹ کی اراضیات ہیں۔ ایسی تمام جائیدادوں کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

چند سال قبل تلنگانہ میں دھرانی پورٹل بنایا گیا۔ پھر اب کانگریس حکومت میں بھو بھارتی پورٹل لایا گیا ہے۔ ان پورٹلس میں ڈاٹا انٹری کے ذریعہ جب جائیدادوں کی تفصیلات کا اندراج عمل میں لایا گیا تو ایسی جائیدادوں کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کر دیا گیا جو کہ کسی بھی سرکاری زمرے میں نہیں آتی ہیں۔ ایسی اراضیات جو سکشن 22 اے کے زمرے میں نہیں آتی ہیں۔ ان کو بھی ممنوعہ فہرست میں ڈال دینے کی وجہ سے متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔

وہ اپنی پراپرٹی کو فروخت کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے تمام معاملات کا نوٹ لیتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے بے شک کچھ حد تک اقدامات کا آغاز کیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے جو بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وہ انتہائی سست رفتار ہیں۔اس معاملہ میں آندھراپردیش حکومت کے اقدامات کے مقابلے میں تلنگانہ حکومت بہت سست رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ آندھرا پردیش کی حکومت نے جتنی بھی جائیدادیں سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل تھیں۔

ان سبھی جائیدادوں کو ایک کے بعد دیگر ممنوعہ لسٹ سے نکال رہی ہے۔ ضلع واری اساس پر جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے نکالا جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر آندھرا پردیش میں ڈی لسٹنگ کی جا رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل جائیدادوں کو نکالا جا رہا ہے تاہم اس طرح کی تیز رفتار کارروائی کے معاملہ میں تلنگانہ حکومت ابھی بھی کافی پیچھے ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے اب یہ کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔

اس کمیٹی سے رجوع ہو کر متاثرہ عوام شکایتیں پیش کر سکتے ہیں اور کمیٹی درخواستوں کو قبول کرے گی اور اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل اس جائیداد کو نکالا جانا چاہئے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ اب ریاستی حکومت کی جانب سے ایک نیا فیصلہ آیا ہے اور جی او 59جاری کیا گیا ہے۔ ایسے افراد جو اراضیات پر طویل عرصہ سے قابض ہیں۔

ان کے پاس کوئی ٹائٹل بھی نہیں ہے اور وہ سرکاری زمین ہے اور اراضی 500 گز سے کم ہے تو ایسی جائیدادوں کو باقاعدہ بنایا جائے گا ۔ اگر ایسی جائیدادوں کے تعلق سے کنوینس ڈیڈ پیش کئے جاتے ہیں تو پھر ایسی جائیدادوں کو سیکشن 22 اے سے نکال دیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جس تیزی کے ساتھ جائیدادوں کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے اسی تیزی سے ممنوعہ فہرست سے جائیدادوں کو نکالنے کے لئے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اقدامات کافی سست رفتار ہیں لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل جائیدادوں کا فی الفور سروے کروائے۔ سروے نمبرات کی نشاندہی کی جائے۔ اگر یہ پراپرٹی خانگی ہے تو فوری طورپر گورنمنٹ پراپرٹی سے علیحدہ کرتے ہوئے ممنوعہ فہرست سے پراپرٹی کو نکالا جائے اور عام عوام کو اس مسئلہ سے فی الفورراحت فراہم کی جائے۔