حیدرآبادقانونی مشاورتی کالم

حیدرآباد کے شہریوں کیلئے بڑی خبر، کیا کچھ بدلنے والا ہے؟ آپ بھی ہوجائیں تیار!

شہر حیدرآباد میں بلدی کاموں کے لئے سب سے پہلے جو ادارہ بنایا گیا تھا۔ وہ سٹی امپرومنٹ بورڈ (سی اے بی) تھا۔ اس کے بعد 1955 میں میونسپل ایکٹ نافذ کیا گیا۔ یہ میونسپل ایکٹ کو حیدرآباد کے تمام شہری حدود میں نافذ کیا گیا تھا۔

سوال : کیا ابھی حیدرآباد بلدیہ کے لئے کوئی نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ کیا بلدیہ کا جو پرانا قانون ہے۔ کیا وہ قانون اب ختم ہو جائے گا۔ پرانے قانون کی جگہ کونسا نیاقانون لایا گیا ہے اور اس قانون کی کیا خصوصیات ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب : شہر حیدرآباد میں بلدی کاموں کے لئے سب سے پہلے جو ادارہ بنایا گیا تھا۔ وہ سٹی امپرومنٹ بورڈ (سی اے بی) تھا۔ اس کے بعد 1955 میں میونسپل ایکٹ نافذ کیا گیا۔ یہ میونسپل ایکٹ کو حیدرآباد کے تمام شہری حدود میں نافذ کیا گیا تھا۔ حیدرآباد میں 1955 میں جب بلدی قانون بنایا گیا تھا تو اس وقت وارڈس کی تعداد بہت کم تھی۔ آبادی بھی بہت کم تھی اور عوام کی ضروریات بھی محدود تھیں ۔ اس لحاظ سے یہ قانون بنایا گیا تھا تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔

ضروریات کے لحاظ سے 1955 کے قانون میں بڑے پیمانے پر ترمیمات کی گئیں اور پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ جس کو جی ایچ ایم سی ایکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ چند یوم قبل تک گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایکٹ ہی نافذ العمل تھا تاہم اب ریاستی حکومت نے ایسے شہری حدود جو آؤٹر رنگ روڈ کے اندر واقع ہیں۔

ان سبھی علاقہ جات کو شہری علاقہ جات متصور کرتے ہوئے کور اربن ریجن کا نام دیا ہے۔ اب ایسے جو بھی علاقہ جات ہیں جو آؤٹر رنگ روڈ کے اندر آتے ہیں۔ چاہے وہ شمس آباد، معین آباد ، پٹن چیرو یا سری لنگم پلی ہو، ایسے تمام علاقہ جات جو آؤٹر رنگ روڈ کے حدود کے اندر آتے ہیں۔ ان سب کو ایک یونٹ تصور کیا گیا ہے اور کور اربن ریجن کا نام دیا گیا ہے۔

اس کور اربن ریجن کے تحت تین میونسپل کارپوریشنس رہیں گے۔ سب سے پہلے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ہوگا جو پرانے حیدرآباد کا علاقہ ہے۔ اس کے بعد سائبر آباد میونسپل کارپوریشن رہے گا جو سائبر سٹی، ہائی ٹیک سٹی کا علاقہ ہے اور تیسرا کارپوریشن میڑچل ملکاجگری ہے۔ میڑچل ملکاجگری ضلع کا جو اربن ایریا ہے۔ اس کو ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کا نام دیا گیا ہے۔ اب یہ تین کارپوریشنس الگ الگ رہیں گے۔

ان کے میئر الگ الگ رہیں گے۔ ان کے وارڈس الگ الگ رہیں گے۔ ان کے کارپوریٹرس بھی الگ الگ رہیں گے لیکن یہ تینوں میونسپل کارپوریشنس کے لئے ایک ہی کامن قانون رہے گا اور یہ تینوں کارپوریشنس کو’’کور اربن ریجن‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ان تینوں کارپوریشنس کے لئے جو قانون نافذ العمل رہے گا۔ وہ کور اربن ریجن ایکٹ 2026 رہے گا۔ریاست تلنگانہ میں کور اربن ریجن ایکٹ 2026 کو 2اکتوبر 2026 سے نافذ کردیا گیا ہے۔

اب جتنے بھی پراپرٹی ٹیکس، آبرسانی بل، سیوریج چارجس، صفائی وغیرہ کے معاملات رہیں گے۔ ان تمام خدمات یا سروسس کے لئے ایک ہی ٹیکس بل رہے گی۔ ایک ہی بل میں یہ تمام خدمات کے ٹیکسس کو شامل کیا جائے گا۔ بعد ازاں ایک یونیک آئیڈنٹیفیکیشن آف پراپرٹی کے لحاظ سے ایک نمبر بھی دیا جائے گا جو ابھی جموں کشمیر جیسی ریاست میں پراپرٹی سے متعلق یونیک کوڈ دیا جاتا ہے۔

اگر آپ اس کوڈ کو اسکیان کرتے ہیں تو پراپرٹی کے تعلق سے ساری تفصیلات آپ کو فی الفور حاصل ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ پراپرٹی کا مالک کون ہے۔ کیا ٹیکسس ہیں۔ کیا سروسس حاصل کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام تفصیلات آپ کو اسکرین پر آجاتی ہیں۔ ایسا ہی طریقہ کار اب اس نئے قانون کے تحت یہاں استعمال کیا جائے گا۔

کور اربن ریجن کے تحت تمام ہاؤس یونٹس کے لئے ایک نیا قانون لایا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو پراپرٹی ٹیکس وغیرہ کا تعین ہوگا۔ وہ کہاں تک عوام کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ اس بات کا پتہ اس وقت ہی چلے گا جب حکومت نئے ٹیکس کی شرح کا تعین اور اعلان کرے گی۔