الیکٹرک انقلاب کے سائے میں ماحولیاتی بحران (گلوبل وارننگ)
مقامی آبادی میں سانس کی بیماریاں، جلدی امراض اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طویل مدتی اثرات جیسے کینسر اور جینیاتی مسائل کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی کو ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کا دور کہا جا سکتا ہے دنیا بھر میں فوسل فیولز کے بے تحاشہ استعمال نے نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ کیا بلکہ عالمی حدت (گلوبل وارننگ) کو بھی خطرناک سطح تک پہنچا دیا ان حالات میں الیکٹرک گاڑیوں (الیکٹرک وہیکل) کو ایک ماحول دوست متبادل کے طور پر پیش کیا گیا یہ تصور عام کیا گیا کہ الیکٹرک گاڑیاں کاربن کے اخراج میں کمی لائیں گی اور ماحول کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
تاہم، اس ظاہری سبز حل کے پیچھے ایک پیچیدہ اور متنازع حقیقت موجود ہے، جس کا تعلق الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریوں کی کان کنی اور اس کے نتیجے میں قدرتی وسائل کی تباہی سے ہے۔
لیتھیم ایک ہلکی، نرم اور نہایت فعال دھات ہے جو جدید دور میں بیٹری ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ اس کا استعمال موبائل فونز، لیپ ٹاپس، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں میں بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر لیتھیم کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہے۔
لیتھیم کے بڑے ذخائر چند مخصوص خطوں میں پائے جاتے ہیں، جن میں جنوبی امریکہ کا مشہور ‘لیتھیم مثلث’ (Lithium Triangle) شامل ہے جو چلی، بولیویا اور ارجنٹائن پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، چین اور چند افریقی ممالک میں بھی لیتھیم کی کان کنی کی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں لیتھیم کی کان کنی نے مقامی ماحول اور معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
لیتھیم نکالنے کے دو بنیادی طریقے رائج ہیں:
نمکین پانی (Brine) سے لیتھیم کا اخراج
اس طریقے میں زیر زمین نمکین پانی کو سطح پر لا کر بڑے بڑے تالابوں میں بخارات کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں بے تحاشہ پانی استعمال ہوتا ہے، جو بالآخر مقامی آبی ذخائر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
سخت چٹانوں (Hard Rock Mining) سے کان کنی
اس طریقے میں زمین کو کھود کر لیتھیم پر مشتمل چٹانیں نکالی جاتی ہیں، جنہیں بعد ازاں کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہ طریقہ زمین کی ساخت، نباتات اور جنگلی حیات کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
دونوں طریقے ماحولیاتی توازن کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں اور قدرتی وسائل پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں۔
لیتھیم کان کنی کا سب سے سنگین اثر پانی کے وسائل پر پڑتا ہے۔ جنوبی امریکہ کے صحرائی علاقوں میں جہاں پانی پہلے ہی نایاب ہے، لیتھیم نکالنے کے لیے لاکھوں لیٹر پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، جس سے مقامی زراعت، مویشی پروری اور انسانی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق لیتھیم کان کنی کے باعث کنویں خشک ہو چکے ہیں، جھیلیں سکڑ رہی ہیں اور زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال مقامی آبادی کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ وجود کے لیے خطرہ بھی بن چکی ہے۔
کان کنی کا عمل زمین کی سطح کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر کھدائی، سڑکوں کی تعمیر اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث قدرتی مناظر مسخ ہو جاتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، مٹی کے کٹاؤ اور آلودگی کے باعث حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
کئی نایاب پودے اور جانور، جو مخصوص ماحولیاتی نظام سے وابستہ ہوتے ہیں، کان کنی کے نتیجے میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح لیتھیم بیٹریوں کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کا دعویٰ ایک تضاد کا شکار نظر آتا ہے۔
لیتھیم کی کان کنی اور پروسیسنگ کے دوران مختلف کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں، جو فضاء، پانی اور مٹی کو آلودہ کرتے ہیں۔ گرد و غبار، زہریلی گیسیں اور صنعتی فضلہ انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتے ہیں۔
مقامی آبادی میں سانس کی بیماریاں، جلدی امراض اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طویل مدتی اثرات جیسے کینسر اور جینیاتی مسائل کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
اگر بجلی کی پیداوار بھی فوسل فیولز سے ہو رہی ہو تو الیکٹرک گاڑیوں کا مجموعی ماحولیاتی فائدہ مزید محدود ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف گاڑی کی نوعیت کا نہیں بلکہ پورے توانائی نظام کا ہے۔
لیتھیم بیٹریوں کی عمر محدود ہوتی ہے۔ ان کے استعمال کے بعد اگر مناسب ری سائیکلنگ کا نظام موجود نہ ہو تو یہ بیٹریاں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ فی الحال دنیا میں لیتھیم بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کی شرح نہایت کم ہے، جس سے مستقبل میں ایک نیا ماحولیاتی بحران جنم لے سکتاہے۔
بیٹریوں میں موجود زہریلے عناصر زمین اور پانی کو آلودہ کر سکتے ہیں، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ، بیٹری ری سائیکلنگ کے مؤثر نظام، کان کنی کے سخت ماحولیاتی قوانین اور مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی بنا کر نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ پائیدار ترقی کا تقاضا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ الیکٹرک گاڑیاں بذات خود ماحولیاتی مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ ایک عبوری مرحلہ ہیں۔ اگر لیتھیم کان کنی کے اثرات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ سبز ٹیکنالوجی دراصل ایک نئے استحصالی نظام کو جنم دے سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر شفاف پالیسیاں، ذمہ دارانہ کان کنی اور صارفین میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ ماحول دوست دعوے حقیقت کا روپ دھار سکیں۔
الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریوں کی کان کنی ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ اگرچہ الیکٹرک گاڑیاں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کی ایک امید فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کے پس پردہ قدرتی وسائل کی تباہی، پانی کی قلت، حیاتیاتی نقصان اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔
ایک حقیقی پائیدار مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے پیداواری اور مصرفی نظام پر بھی نظر ثانی کریں۔ تب ہی الیکٹرک گاڑیاں واقعی ماحول دوست حل بن سکیں گی، ورنہ یہ محض مسئلے کی نوعیت بدلنے کے مترادف ہوگا، حل نہی