تلنگانہ

اینٹی بائیوٹکس کے حد سے زیادہ استعمال پر ماہرین کی وارننگ

رنگا ریڈی نے وضاحت کی کہ 1940 میں پینسلین کی دریافت کے بعد یہ سمجھا گیا تھا کہ ہم نے انفیکشن پر قابو پا لیا ہے لیکن بے جا استعمال نے جراثیم کو ان ادویات کا عادی بنا دیا ہے اور اب انہیں ختم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

حیدرآباد: انفکشن کنٹرول اکیڈمی آف انڈیا کے صدر رنگا ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے بڑھتے ہوئے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ادویات بیماریوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں  انہوں نے ایک تلگو نیوز چینل سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اور مرکزی حکومت کی وضع کردہ پالیسیوں پر سختی سے عمل نہ کرنا اس سنگین مسئلہ کی اصل وجہ ہے۔

متعلقہ خبریں
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی
نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سالوں سے ہماری توجہ صرف ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی غیر متعدی بیماریوں پر رہی ہے جبکہ انفیکشن سے پھیلنے والی بیماریوں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 12 لاکھ افراد ان بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ صرف ہندوستان میں سالانہ 3 لاکھ اموات اینٹی بائیوٹکس کے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

رنگا ریڈی نے وضاحت کی کہ 1940 میں پینسلین کی دریافت کے بعد یہ سمجھا گیا تھا کہ ہم نے انفیکشن پر قابو پا لیا ہے لیکن بے جا استعمال نے جراثیم کو ان ادویات کا عادی بنا دیا ہے اور اب انہیں ختم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے ایک عالمی صحت کا بحران قرار دیتے ہوئے گلوبل ایکشن پلان متعارف کرایا ہے جس کا مقصد انسانوں، جانوروں اور زراعت میں اینٹی مائیکروبیل ادویات کے استعمال کو کم کرنا ہے۔

ہندوستان میں بھی دس سال قبل نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا اور تلنگانہ حکومت نے 2024 میں اس پر عمل درآمد شروع کیا ہے جس کے نتائج مستقبل میں متوقع ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے نئی اینٹی بائیوٹکس متعارف نہ کروانے کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2050 تک ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد ادویات کے خلاف مدافعت کھو سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی کے من کی بات پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس پاپ کارن نہیں ہیں جنہیں مرضی سے کھایا جائے۔ ان کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے اور مکمل تشخیص کے بعد ہی ہونا چاہیے۔