پداپلی کانگریس میں گروپ بندی شدت اختیار کرگئی، وزیر سریدھر بابو اور رکن پارلیمنٹ گڈم ونشی کرشنا کے درمیان اختلافات
تلنگانہ کے ضلع پداپلی میں کانگریس پارٹی کے اندر گروپ بندی اور اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کے حامیوں اور پداپلی کے رکن پارلیمنٹ گڈم ونشی کرشنا کے حامیوں کے درمیان مبینہ اختلافات نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو گرما دیا ہے۔
پداپلی: تلنگانہ کے ضلع پداپلی میں کانگریس پارٹی کے اندر گروپ بندی اور اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کے حامیوں اور پداپلی کے رکن پارلیمنٹ گڈم ونشی کرشنا کے حامیوں کے درمیان مبینہ اختلافات نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو گرما دیا ہے۔
ونشی کرشنا کے حامیوں کا الزام ہے کہ انہیں پارٹی کے دیگر قائدین کی جانب سے مناسب اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور انہیں ایک رکن پارلیمنٹ تو دور، کانگریس کے ایک عام کارکن کی حیثیت سے بھی تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔
سریدھر بابو گروپ پر ونشی کرشنا کو نظرانداز کرنے کا الزام
پداپلی میں سیاسی حلقوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ سابق مرکزی وزیر جی وویک وینکٹ سوامی اور سریدھر بابو کے درمیان ماضی سے چلے آرہے اختلافات کا اثر اب وویک کے فرزند اور رکن پارلیمنٹ ونشی کرشنا کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ رہا ہے۔
الزامات کے مطابق، مکن سنگھ ٹھاکر، وجئے رمنا راؤ، اڈلوری لکشمن اور سریدھر بابو ایک گروپ کے طور پر سرگرم ہیں، جبکہ ونشی کرشنا کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ کی جانب سے رکن پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔
سرکاری پروگراموں میں مدعو نہ کرنے پر ناراضگی
ونشی کرشنا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی سرکاری پروگراموں میں مدعو نہیں کیا جارہا ہے اور بعض مقامات پر ان کی مبینہ بے عزتی بھی کی گئی ہے۔ ان واقعات کے باعث پارٹی کے اندرونی اختلافات منظر عام پر آگئے ہیں۔
ان الزامات کے بعد سریدھر بابو، اڈلوری لکشمن، مکن سنگھ ٹھاکر اور وجئے رمنا راؤ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی تنقید میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ونشی کرشنا کے حامی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
کانگریس کارکنوں میں سیاسی مستقبل کے حوالے سے تشویش
ضلع پداپلی میں کانگریس کی سیاسی صورتحال پہلے ہی بعض حلقوں میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی گروپ بندی نے کارکنوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
بعض کارکنوں کو خدشہ ہے کہ اگر قائدین کے درمیان اختلافات دور نہیں کیے گئے تو اس کا اثر پارٹی کی تنظیمی مضبوطی اور آئندہ انتخابی امکانات پر پڑسکتا ہے۔
تاہم، ونشی کرشنا کو نظرانداز کرنے اور ان کی مبینہ بے عزتی سے متعلق الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اس معاملے پر متعلقہ قائدین کا باضابطہ ردعمل بھی سامنے نہیں آیا ہے۔