جرائم و حادثاتسوشیل میڈیاقومی

آوارہ کتوں کا قہر، 8 سالہ بچے کو 10 میٹر تک گھسیٹا، چہرے پر15 ٹانکے

ابراہیم اپنی نانی کنیز فاطمہ کے گھر میں رہتا ہے۔ وہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ اچانک ایک کتے نے اس پر حملہ کردیا۔ کتا بچے کو تقریباً 10 میٹر تک گھسیٹتا رہا۔ اس حملے میں بچے کے ہونٹ پھٹ گئے اور چہرے پر شدید زخم آئے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے لال مسجد علاقہ میں آوارہ کتوں کے حملوں سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ ایک کتے نے 8 سالہ بچے ابراہیم پر حملہ کرکے اسے تقریباً 10 میٹر تک گھسیٹا، جس کے نتیجہ میں اس کے ہونٹ پھٹ گئے اور چہرے پر گہرے زخم آئے۔ بچے کو علاج کے دوران 15 ٹانکے لگانے پڑے۔ اسی علاقے میں 68 سالہ رابعہ بی بھی کتے کے حملے میں زخمی ہوگئیں۔

گھر کے باہر کھیل رہے بچے پر حملہ

اطلاعات کے مطابق، ابراہیم اپنی نانی کنیز فاطمہ کے گھر میں رہتا ہے۔ وہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ اچانک ایک کتے نے اس پر حملہ کردیا۔ کتا بچے کو تقریباً 10 میٹر تک گھسیٹتا رہا۔ اس حملے میں بچے کے ہونٹ پھٹ گئے اور چہرے پر شدید زخم آئے۔ اسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور زخموں پر 15 ٹانکے لگائے گئے۔

بچے کی حالت دیکھ کر اس کی نانی کنیز فاطمہ انتہائی غمزدہ ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جس جگہ بچہ پہلے بے خوف ہوکر کھیلتا تھا، اب وہاں اسے باہر بھیجنے میں بھی ڈر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ دوسرے بچوں کو ایسے حملوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔

68 سالہ خاتون بھی کتے کے حملے کا شکار

اسی محلے میں رہنے والی 68 سالہ رابعہ بی اپنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کھانا تیار کررہی تھیں کہ اچانک ایک کتے نے ان پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں ان کی ناک پر گہرا زخم آیا، جبکہ گال اور گلے پر بھی چوٹیں لگیں۔

اطلاعات کے مطابق، اس کے بعد کتا گلی میں کھیل رہے ابراہیم کی طرف دوڑا۔ بچے کو بچانے کے لیے رابعہ بی آگے بڑھیں تو کتے نے دوبارہ ان پر حملہ کردیا۔ اس مرتبہ ان کے پیٹ پر بھی چوٹ آئی۔ دوسروں کو بچانے کی کوشش میں خود زخمی ہونے والی رابعہ بی کا واقعہ علاقے میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔

بچوں کو باہر بھیجنے سے بھی ڈر رہے ہیں لوگ

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں آوارہ کتوں کی موجودگی کے سبب روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجنے اور گھر کے باہر کھیلنے دینے میں بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس مسئلے کے تعلق سے کئی مرتبہ شکایات کی گئیں، لیکن اب تک کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔

میئر نے کتے کی شناخت کی جانچ کی بات کہی

اس واقعے کے بعد حملہ کرنے والے کتے کی نوعیت کو لے کر بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کتا آوارہ تھا، جبکہ بھوپال کی میئر مالتی رائے کا کہنا ہے کہ پہلے اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ کتا پالتو تھا یا آوارہ۔

مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے صحت نریندر شیواجی پٹیل نے بھی آوارہ کتوں کے حملوں کو تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں چوکس ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ حملوں میں زخمی ہونے والوں کو جلد علاج فراہم ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مسئلہ برقرار؟

آوارہ کتوں کی نس بندی اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو پانے کے لیے سرکاری سطح پر رقم خرچ کیے جانے کے باوجود ایسے واقعات کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ اس صورت حال نے کتوں کی آبادی پر قابو پانے، شکایات پر کارروائی اور شہریوں کی حفاظت کے انتظامات پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے میں فوری اقدامات کریں اور بچوں، بزرگوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان شکایات کے بعد انتظامیہ زمینی سطح پر کیا اقدامات کرتی ہے۔