گولڈ گھاری کی دھوم، مہنگائی کے باوجود ایڈوانس بکنگ جاری، قیمت سن کر رہ جائیں گے حیران!
گجرات کے شہر سورت میں روایتی تہوار ’چاندی پڑوا‘ کے موقع پر مشہور مٹھائی گولڈ گھاری کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال اس کی قیمت بڑھ کر 21 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 5 ہزار روپے زیادہ ہے۔
نئی دہلی: گجرات کے شہر سورت میں روایتی تہوار ’چاندی پڑوا‘ کے موقع پر مشہور مٹھائی گولڈ گھاری کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال اس کی قیمت بڑھ کر 21 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 5 ہزار روپے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود مٹھائی کے شوقین افراد کا جوش کم نہیں ہوا اور تہوار سے پہلے ہی دکانوں پر ایڈوانس بکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
سورت کی پہچان بن چکی گھاری نہ صرف اپنے روایتی ذائقے بلکہ شاہانہ انداز کے لیے بھی مشہور ہے۔ خشک میوہ جات اور دیگر اجزاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس سال گھاری کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، لوگ اپنے اہل خانہ اور خاص مہمانوں کی تواضع کے لیے اس خصوصی مٹھائی کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق سورت کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں اور بیرون ملک سے بھی اس کی مانگ آ رہی ہے۔
17 مختلف ذائقوں میں دستیاب گھاری
اس سال گھاری کے شوقین افراد کے لیے روایتی ذائقوں کے ساتھ کئی نئی اقسام بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ سورت کے پارلے پوائنٹ علاقے میں واقع ’24 کیریٹ سویٹس‘ میں اس بار گھاری کے 17 مختلف ذائقے دستیاب ہیں۔
دکان کے مینیجر پردیپ بھائی کے مطابق، گاہک ہر سال نئے ذائقے آزمانا چاہتے ہیں، اسی لیے اس مرتبہ بھی نئی اقسام تیار کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق خشک میوہ جات اور دیگر اجزاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گولڈ گھاری کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
گھاری عام طور پر خالص گھی، ماؤے اور خشک میوہ جات سے تیار کی جاتی ہے۔ زعفران و پستہ اور بادام و پستہ جیسی روایتی اقسام کے ساتھ اب چاکلیٹ اور دیگر جدید ذائقے بھی مقبول ہو رہے ہیں۔
کیا ہے گولڈ گھاری کی خاص بات؟
گولڈ گھاری کو عام گھاری سے منفرد بنانے کے لیے اس کے اوپر کھانے کے قابل سونے کا ورق لگایا جاتا ہے، جس سے اسے شاہانہ شکل ملتی ہے۔ مٹھائی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق، اس کا تصور شاہی طرزِ زندگی سے متاثر ہے۔
واضح رہے کہ اس سال 26 اکتوبر کو چاندی پڑوا منایا جائے گا۔ تہوار سے قبل گھاری کی خریداری اور ایڈوانس بکنگ سے سورت کی مٹھائی کی دکانوں پر رونق بڑھ گئی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے باوجود گجراتیوں کے لیے یہ مٹھائی محض ذائقہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ تہذیبی روایت بھی ہے۔