ہندی سینما میں پہلی مرتبہ مسلمان کردار مثبت انداز میں
'سنگل سلمیٰ' ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہے جو بیک وقت پورے ہندستان کے بے شمار مسلمان گھروں میں روزانہ جی جا رہی ہے۔ سلمیٰ جس کا کردار ہما قریشی نے ادا کیا ہے ، گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہے، جو اپنے خاندان کی جذباتی اور معاشی ریڑھ کی ہڈی بن جاتی ہے
نئی دہلی : ہندستانی سینما کی تاریخ کے بیشتر حصے میں مسلمان کرداروں کو اخلاقی اور ظاہری اعتبار سے ایک نہایت محدود دائرے میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ابتدائی فلموں میں وہ یا تو نیک سیرت اور وفادار ساتھی کے طور پر نظر آئے، جیسے انسپکٹر خان یا علی، جو وفاداری اور قربانی کی بہترین مثال کی صورت میں دکھائے جاتے تھے۔
یہ کردار بظاہر پہچانے جانے کے قابل تو تھے، مگر شاذ و نادر ہی حقیقی محسوس ہوتے تھے۔ ان کی شناخت کو مختصر علامتوں میں سمیٹ دیا گیا، جس سے ان کی گہرائی اور فطری شناخت ختم ہوتی نظر آئی۔ حالیہ دہائیوں میں یہی دائرہ مزید سخت ہو کر شک و شبہ میں بدل گیا ہے۔ مسلمان کردار کو رفتہ رفتہ منفی کردار، انتہاپسند یا ہمیشہ کے لیے باہر کھڑے رہنے والے اجنبی کے طور پر ایک معمول بنا دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی ایک وسیع تر سماجی اور سیاسی پولرائزیشن کی عکاس ہے، جہاں نمائندگی ہمدردی پیدا کرنے کے بجائے بے چینی اور خوف کو جنم دینے لگتی ہے۔ اس پورے عمل میں جو چیز مسلسل معدوم ہوتی چلی گئی ہے وہ ہے معمولات زندگی یعنی مسلمان خاندانوں کی روزمرہ کی زندگی، جو کام، خواہشات، سمجھوتوں اور بقا کی جدوجہد میں بالکل ویسے ہی مصروف ہوتی ہے جیسے لاکھوں دوسرے ہندستانیوں کی۔
اس پس منظر میں ‘دی گریٹ شمس الدین فیملی’جسے ‘پیپلی لائیو’ سے شہرت پانے والی انوشا رضوی نے لکھا اور ہدایت دی ہے، اور ‘سنگل سلمیٰ’ جس کی ہدایت کاری نچیکیت سامنت نے کی اور تحریر مدثر عزیز کی ہے، دونوں فلمیں ایک نایاب اور خاموش مگر جرات مندانہ مداخلت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ دونوں فلمیں مسلمان خواتین کو کسی علامت، خاص شبیہ یا نظریاتی بیان کے طور پر نہیں بلکہ مرکزی کرداروں کے طور پر پیش کرتی ہیں، جو نہایت عصری حقیقتوں سے نبرد آزما ہیں۔
ان کی کہانیاں کسی غیر معمولی بحران کے گرد نہیں گھومتیں، بلکہ خاندانی ذمہ داریوں، معاشی دباؤ، جذباتی مشقت اور ذاتی انتخاب جیسے مانوس دائرے میں آگے بڑھتی ہیں۔ دی گریٹ شمس الدین فیملی خاص طور پر آج کے دور میں پیوست دکھائی دیتی ہے۔ اس کی مرکزی کردار بانی احمد (جس کا کردار کرتیکا کامرا نے ادا کیا ہے) تعلیم یافتہ، بلیغ اور جذباتی کشمکش کا شکار ہے۔ اپنے ہندو ساتھی سے حال ہی میں علیحدگی کے بعد وہ امریکہ میں ملازمت کی متلاشی ہے۔
بین المذاہب تعلق کو فلم میں کسی سنسنی یا شور کے بغیر دکھایا گیا ہے، گویا یہ اس زمانے کی یاد ہو جب ایسے رشتے سیاسی مناقشوں کے بجائے جیتی جاگتی انسانی حقیقت ہوا کرتے تھے۔ فلم براہِ راست سیاست کو موضوع نہیں بناتی، مگر موجودہ پولرائزڈ ماحول ہر جگہ محسوس ہوتا ہے ،سرسری گفتگو میں، ان کہی تشویشوں میں اور خوابوں کی خاموش ازسرِنو ترتیب میں۔
بانی کی ملک چھوڑنے کی خواہش محض بلند حوصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بڑھتی ہوئی بے چینی سے بھی جڑی ہے ۔ اس احساس سے کہ سماجی دائرے سکڑتے جارہے ہیں۔ سیاسی تناظر کہانی کا پلاٹ نہیں بنتا، مگر وہ اس کی جذباتی منطق کو اسی طرح تشکیل دیتا ہے جیسے وہ روزمرہ زندگی میں کرتا ہے۔
‘سنگل سلمیٰ’ ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہے جو بیک وقت پورے ہندستان کے بے شمار مسلمان گھروں میں روزانہ جی جا رہی ہے۔ سلمیٰ جس کا کردار ہما قریشی نے ادا کیا ہے ، گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہے، جو اپنے خاندان کی جذباتی اور معاشی ریڑھ کی ہڈی بن جاتی ہے۔ وہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے اپنی ذاتی زندگی کو مؤخر کر دیتی ہے، نہ کسی بغاوت کے طور پر اور نہ ہی کسی شہادت یا قربانی کے دعوے کے ساتھ، بلکہ محض ضرورت کے تحت۔
اس کی خودمختاری کو نہ رومانوی رنگ دیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کسی مزاحمتی عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، فلم خاموش برداشت کی ایک صورت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں تعلیم بقا کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اختیار یا احتجاج کے بجائے استقامت اور ثابت قدمی کے ذریعے استعمال کی جاتی ہے۔
سلمیٰ کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ اس کا غیر معمولی ہونا نہیں بلکہ اس کی قابلِ شناخت حقیقت ہے۔ وہ محنت کش طبقے اور نچلے متوسط طبقے کی اُن مسلمان عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جو خاندانوں کو جوڑے رکھتی ہیں، مگر عوامی بیانیوں میں عموماً نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ اسے کہانی کے مرکز میں لا کر فلم ایک ایسی زندگی کو وقار عطا کرتی ہے جسے اکثر معمول سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دونوں فلمیں اپنی مرکزی کرداروں کو غیر شادی شدہ، نہایت باصلاحیت اور اچھی آمدنی والے پیشوں سے وابستہ عورتوں کے طور پر دکھاتی ہیں ۔ ایک ایسی شبیہ جو مرکزی دھارے کے سنیما میں مسلمان عورتوں کے حوالے سے تقریباً ناپید رہی ہے۔ شاید پہلی مرتبہ حصول معاش میں شامل متوسط طبقے کی مسلمان عورتوں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک طرف اپنے خاندانوں کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں اور دوسری طرف اپنی خودمختاری کا بھرپور اظہار بھی کرتی ہیں۔
ان کرداروں کی شناخت محض روایت، مظلومیت یا انحصار تک محدود نہیں، بلکہ انہیں باخبر فیصلے کرنے والی باصلاحیت عورتوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو جذباتی مشقت، مالی جواب دہی اور ذاتی آزادی کے درمیان توازن قائم رکھتی ہیں۔
اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ اس معمول کی زندگی کو ادا کیسے کیا گیا ہے۔ کرتیکا کامرا اور ہما قریشی اپنے کرداروں کو عام کام کاجی عورتوں کی طرح نبھاتی ہیں، اور جان بوجھ کر اُن دقیانوسی علامتوں سے گریز کرتی ہیں جو پردۂ اسکرین پر اکثر مسلمان شناخت کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہیں۔ یہاں نہ مبالغہ آمیز "آداب” ہیں، نہ دکھاوے کی لکھنوی تہذیب، اور نہ ہی وہ تزئینی اشارے جو زبردستی "مسلمان پن” جتانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، کردار روزمرہ حقیقت پسندی میں جڑے ہوئے ہیں ، جہاں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جذباتی گہرائی اور انفرادیت، ثقافتی خاکوں سے کہیں زیادہ ان کی شناخت تشکیل دیتی ہے۔
یہ حقیقت پسندی خاموشی سے ایک مانوس سماجی تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جدید دور کے نوکری پیشہ مسلمان اکثر اس جملے کا سامنا کرتے ہیں: "آپ مسلمان جیسے نہیں لگتے” ایک ایسا فقرہ جو اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ عوامی ثقافت میں مسلمان شناخت کو کس قدر تنگ دائرے میں تصور کیا گیا ہے۔ ‘دی گریٹ شمس الدین فیملی’ اور ‘سنگل سلمیٰ’ دونوں ہی بغیر کسی وعظ یا براہِ راست پیغام کے اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہیں۔
مسلمان کرداروں کو روزمرہ کی ہندستانی متوسط طبقے کی زندگی کا حصہ بنا کر دکھاتے ہوئے جہاں نوکری، مالی معاملات، خاندانی ذمہ داریاں اور ذاتی خواہشات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، یہ فلمیں مسلمان زندگی کو اجنبی یا غیر معمولی بنانے کے بجائے معمول کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مسلمان متوسط طبقے کا وجود کوئی استثنا نہیں بلکہ ہندستانی سماجی تانے بانے کا لازمی حصہ ہے۔
دونوں کہانیاں حیرت انگیز طور پر ایک جیسے انجام تک پہنچتی ہیں۔ مختلف حالات کے باوجود بانی اور سلمیٰ ایک ہی بنیادی اصول اور وقار کے ساتھ خودمختاری کا انتخاب کرتی ہیں ۔ تعلیم یافتہ اور مضبوط ارادے کی حامل یہ عورتیں سماجی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کرتی ہیں، جو ان سے آزادی کے بدلے تحفظ، شادی یا منظوری مانگتا ہے۔ ان کے فیصلوں کو نہ فتح اور نہ ناکامی بلکہ محض اپنی شرائط پر جینے کے فیصلہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یہاں نہ کوئی ڈرامائی تطہیر ہے اور نہ اخلاقی خطاب۔ اس کے بجائے فلمیں ایک خاموش مگر مضبوط اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ خودداری اور آزادی بذاتِ خود معتبر اور مکمل انجام ہیں۔ ایسے فلمی منظرنامے میں جہاں اکثر قربانی یا اطاعت کے ذریعے مسئلے حل کیے جاتے ہیں، یہ ضبط اور سادگی خاموشی سے انقلاب لاتی محسوس ہوتی ہے۔
‘دی گریٹ شمس الدین فیملی’ اور ‘سنگل سلمیٰ’ نہ صرف مسلمان کرداروں کی پرانی شبیہ کو چیلنج کرتی ہیں بلکہ عورت کی خودمختاری کے تصور پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ یہ فلمیں اُن دو خانوں کو ماننے سے انکار کرتی ہیں جن پر بالی ووڈ بڑھتے ہوئے انحصار کرتا جا رہا ہے "اچھا” بمقابلہ "برا” مسلمان، یا "جدید” بمقابلہ "روایتی” عورت۔ یہاں شناخت نہ دفاع ہے نہ الزام؛ وہ محض زندگی کا ایک حصہ ہے۔
مسلمان عورتوں کو تعلیم یافتہ، خودمختار اور باوقار زندگی کی خواہاں فرد کے طور پر دکھا کر یہ فلمیں ایک بظاہر سادہ مگر نہایت ضروری کام انجام دیتی نظرا ٓتی ہیں۔ شور اور پولرائزیشن کے اس دور میں، عام زندگیوں کو دیانت داری سے دکھانا بذاتِ خود ایک مزاحمتی عمل بن جاتا ہے۔