حیدرآباد

ایم ایل سیز کے خلاف چیف منسٹر کے ریمارکس پر سابق وزیرداخلہ محمودعلی برہم

محمودعلی آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹرریونت ریڈی جنہوں نے متنازعہ بیانات دینے کو عادت بنالی ہے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں بہ حیثیت رکن کونسل خدمات انجام دے چکے ہیں۔

حیدرآباد: سابق وزیرداخلہ ورکن قانون سازکونسل محمدمحمودعلی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے کونسل کے ارکان کے خلاف کئے گئے ریمارکس پر برہمی کا اظہارکیا۔ انہوں نے ریونت ریڈی سے مطالبہ کیاکہ وہ فوری تلنگانہ قانون سازکونسل پہنچ کر بلالحاظ پارٹی وابستگی تمام ارکان سے معافی مانگیں۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
منصف ٹی وی کے ’مشن 2024‘ کانکلیو کا کامیاب انعقاد
پرگتی بھون میں عثمان الھاجری کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ سے ملاقات
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

محمودعلی آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹرریونت ریڈی جنہوں نے متنازعہ بیانات دینے کو عادت بنالی ہے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں بہ حیثیت رکن کونسل خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہوں نے مبینہ طور پر ارکان کو رئیل اسٹیٹ کے بروکرس کہاتھا۔ ان کایہ تبصرہ غلط ہے۔

 انہوں نے کہا کہ آج بی آرایس کے ارکان اسمبلی اور کونسل کی جانب سے حیدرگوڑہ کے نیوایم ایل اے کوارٹرس تا اسمبلی آٹوریالی منظم کی گئی۔ انہوں نے  کہا کہ بی آرایس‘خواتین کو بسوں میں سفرکی مفت سہولت فراہم کرنے کی مخالف نہیں ہے تاہم وہ حکومت سے ریاست کے 6.50لاکھ آٹوڈرائیورس کے معاشی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔