تلنگانہ

سوریاپیٹ ضلع میں نقلی شراب تیار کرنے والا گروہ بے نقاب

محکمہ آبکاری کے اسٹیٹ ٹاسک فورس سپرنٹنڈنٹ انجی ریڈی نے بتایا کہ اس کیس میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ چار مفرور ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سوریاپیٹ ضلع کے میللاچروو منڈل میں نقلی شراب تیار کرنے والا ایک بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ محکمہ آبکاری کی ٹاسک فورس اور حضور نگر پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کی نقلی شراب، 2 کروڑ روپے کی اسپریٹ اور خالی شراب کی بوتلیں ضبط کیں۔

متعلقہ خبریں
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی


ذرائع کے مطابق میللاچروو اور چنتلاپالم منڈلوں میں غیرقانونی شراب سازی پر خفیہ نگرانی کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزمین نے حیدرآباد سے اسپریٹ لاکر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی سرحدی علاقوں میں مشہور برانڈز کے نام سے جعلی شراب فروخت کی۔


ٹاسک فورس کے مطابق یہ مافیا آندھرا پردیش کے مارکا پورم، ریپلے، املاپورم سمیت کئی دیگر علاقوں میں نقلی شراب سپلائی کر چکا ہے۔


محکمہ آبکاری کے اسٹیٹ ٹاسک فورس سپرنٹنڈنٹ انجی ریڈی نے بتایا کہ اس کیس میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ چار مفرور ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے۔