حیدرآباد

حکومت نے رعیتو بھروسہ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا: ٹی ناگیشورراؤ

انہوں نے کہا کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے صرف طریقہ کار پر بات کی ہے تاہم رعیتو بھروسہ پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، انہوں نے کہا اپوزیشن کو میڈیا کے ذریعہ حکومت پر بہتان تراشی نہیں کرنی چاہئیے۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر زراعت تملا ناگیشورا راؤ نے کہاکہ حکومت تلنگانہ نے رعیتو بھروسہ اسکیم پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ ان تمام کسانوں کو رعیتو بھروسہ فراہم کرنا چاہئے جو اپنی ذاتی زمینوں پر کاشت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

انہوں نے کہا حکومت نے رعیتو بھروسہ کے بارے میں کسی ضابطہ کے بارے میں نہیں سوچا ہے اور نہ ہی وہ قابل کاشت زمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے اہل کسانوں کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے صرف طریقہ کار پر بات کی ہے تاہم رعیتو بھروسہ پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، انہوں نے کہا  اپوزیشن کو میڈیا کے ذریعہ حکومت پر بہتان تراشی نہیں کرنی چاہئیے۔

 انہوں نے کہا ہم رعیتو بھروسہ پر ہونے والی بات چیت کے نتائج کو کابینہ میں رکھیں گے اور رعیتو بھروسہ کے بارے میں کابینہ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اب تک کسانوں کے قرض  معاف کرنے کیلئے 21,000 کروڑ روپے، رعیتو بندھو پر 7,625 کروڑ روپے اور رعیتو بیمہ پر 3000 کروڑ روپے خرچ کئیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت ان تمام کسانوں کو رعیتو بھروسہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے جو فصلیں کاشت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ رعیتو بھروسہ پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرمارکہ کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ کمیٹی کے ارکان تملا ناگیشور راؤ، ڈی سریدھر بابو اور پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے اجلاس میں شرکت کی تاہم اس اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔