حیدرآباد

اندراماں انڈولو اسکیم، ذاتی زمین رکھنے والوں کو حکومت دے گی 5 لاکھ روپئے

اس حوالے سے کچھ وضاحت سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کے پاس کوئی ذاتی پلاٹ نہیں ہے یا جو سرکاری یا نجی خالی زمینوں پر غیر قانونی جھگیاں بنا کر رہ رہے ہیں، انہیں پہلے مرحلے میں مکان ملنے کا امکان نہیں ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں جو لوگ ذاتی پلاٹ رکھتے ہیں، وہ اندرا اماں ہاؤسنگ اسکیم کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ کے حکام نے واضح کیا کہ اہل امیدواروں کا انتخاب حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مالی اور دیگر شرائط کے مطابق کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پہلے مرحلے میں ان افراد کو مکانات دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ذاتی پلاٹ رکھتے ہیں لیکن گھر نہیں بنا سکے، یا وہ جو کچّے مکانات میں رہ رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں کئی غریب اور متوسط طبقے کے لوگ شہر کے مضافات میں پلاٹ خرید چکے ہیں لیکن معاشی مسائل کی وجہ سے مکانات تعمیر کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے وہ کرایہ کے مکانات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ابھی تک شہری غریبوں کیلئے حکومت نے واضح رہنما اصول جاری نہیں کیے، جس کی وجہ سے یہ الجھن پیدا ہو رہی تھی کہ کیا سٹی ایریا میں پلاٹ رکھنے والے لوگ اس اسکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں یا نہیں۔

 اس حوالے سے کچھ وضاحت سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کے پاس کوئی ذاتی پلاٹ نہیں ہے یا جو سرکاری یا نجی خالی زمینوں پر غیر قانونی جھگیاں بنا کر رہ رہے ہیں، انہیں پہلے مرحلے میں مکان ملنے کا امکان نہیں ہے۔

"نہ صرف شہروں اور قصبوں میں بلکہ کہیں بھی پلاٹ رکھنے والے افراد ‘اندراماں انڈولوکے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ حکومت کے طے کردہ ضوابط کے مطابق اہل امیدواروں کو منتخب کیا جائے گا۔ پلاٹ کی سائز کچھ بھی ہو، لیکن مکان کی تعمیر مخصوص رقبہ کے اندر ہی کرنی ہوگی۔ اگر مکان کی منظوری ملتی ہے تو حکومت مرحلہ وار 5 لاکھ فراہم کرے گی۔ البتہ، جن لوگوں کے پاس کوئی ذاتی پلاٹ نہیں ہے، انہیں پہلے مرحلہ میں مکان نہیں ملے گا۔ اس پر حکومت کو مزید فیصلہ کرنا ہوگا۔”